چین میں متنازعہ ہانگ کانگ سیکورٹی ایکٹ منظور

0
5

ہانگ کانگ: چین نے منگل کے روز ہانگ کانگ سے متعلق متنازعہ حفاظتی قانون کو متفقہ طور پر منظور کرلیا جس کے تحت نہ صرف غیر ملکی افواج کے ساتھ ملک کر علیحدگی پسندی، تخریب کاری اور ملی بھگت کرنے کو نہ صرف جرم شمار کیا جائے گا بلکہ احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی پر بھی مؤثر ڈھنگ سے شکنجہ کسا جائے گا۔ہانگ کانگ کے روزنامہ اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ’کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز سے نافذ ہونے والے اس قانون کو نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی (این پی سی ایس سی) کے 162 ممبروں نے صرف 15 منٹ کے اندر منظور کرلیا۔ کمیٹی کی میٹنگ صبح نو بجے شروع ہوئی تھی۔اس رپورٹ کے مطابق ، یہ قانون چیف ایگزیکٹو کی زیر صدارت کمیٹی کو اختیار دے گا کہ وہ ہانگ کانگ میں سکیورٹی ایجنسیاں تشکیل دے اور قومی سلامتی کے امور کی نگرانی کے لئے ججوں کی تقرری کرے۔ مرکزی انتظامیہ کی نگرانی چیف ایگزیکٹو کریں گے اور ہانگ کانگ کے موجودہ قانون کے تحت نیا قانون کو اپنایا جائے گا۔
اس سے قبل ہانگ کانگ کے لیڈر کیری لیم نے کہا کہ “جوبھی ملک چین پر انگلیاں اٹھا رہا ہے اس کا اپنا قومی سلامتی کا قانون ہے۔ ہم کسی معقول وجہ کے بغیر نہیں سوچ سکتے کہ چین کو اپنے ہر خطے اور ہر کونے کے تحفظ کے لئے قومی سلامتی قانون کو نافذ کرنے سے کیوں روکا جائے”۔مسٹر لیم نے کہا کہ “میں ہانگ کانگ کے خصوصی انتظامی خطے کے لئے قومی سلامتی ایکٹ کے بارے میں اپنا موقف بیان کرنے کے اس موقع کا خیرمقدم کرتا ہوں”۔
ہانگ کانگ کی قیادت سےحمایت یافتہ اس قانون کی جمہوریت کے حامی گروہوں نے شدید مخالفت کی تھی۔ ملک کی جمہوریت نواز تنظیم ڈیموکیسو کے لیڈر جوشوا وانگ نے کہا کہ وہ اس گروپ سے الگ ہو رہے ہیں۔اس گروپ سے وابستہ کچھ دیگر تجربہ کار کارکنوں نے کہا ہے کہ وہ نئے قانون کے تحت گرفتاری کے خطرے کے باوجود بدھ کے روز بڑے احتجاجی مارچ میں شامل ہوں گے۔
چین کے بار بار یہ کہنے کے باوجود کہ ہانگ کانگ کا معاملہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں مداخلت نہیں کی جانی چاہئے، امریکہ نے کھلے عام اس پر تنقید کی ہے اور پابندیوں کا اعلان کردیا۔برطانیہ ، یوروپی یونین اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نگراں اہلکاروں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس قانون کو چین پر تنقید روکنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہانگ کانگ کو 1997 میں برطانوی کنٹرول سے چین کے حوالے کیا گیا تھا لیکن خصوصی معاہدے کے تحت 50 سال تک کچھ حقوق کی ضمانت بھی دی گئی تھی۔ ایک خصوصی انتظامی خطے کے طور پر ہانگ کانگ’یک ملک – دو نظام‘کے اصول کے تحت سرزمین چین کی حکمرانی سے الگ انتظام اور معاشی نظام کو برقرار رکھتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here