ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

0
28
ڈاکٹر جسیم الدین
یہ تلخ حقیقت ہے کہ آج ملک میں مزدوروں کی حالت شئی حقیر سی ہوگئی ہے، سماج کا وہی طبقہ جو دن رات مزدوری کرکےثروت مندوں کے لیے اسباب وآرائش سے مزین کوٹھی اور ولا تیار کرتاہے، لیکن اس کو خود کو سرچھپانے کے لیے باضابطہ کوئی آشیانہ نہیں ہوتا، کبھی جھگی جھونپڑیوں میں تو کبھی کھلے آسمان یا کبھی فٹ پاتھ اور اوور برج کے نیچے رات بسر کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔
مزدور تمام قربانیوں کے بعد بھی مزدور ہی رہتاہے:
اس شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیں
جس نے سب کے گھر بنائے اس کا گھر کوئی نہیں
زمانۂ قدیم سے ہی یہ طبقہ ظلم وستم کی چکیوں میں پستا آیا ہے، آج بھی آزاد ملک میں اس کی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہے، بلکہ ہر آنے والادن ایک نئی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہوتاہے، ملک میں غیر متوقع لاک ڈاؤن کے بعد سے تو ان کا وجود ہی لڑکھڑانے لگاہے، لاک ڈاؤن کے پہلے فیز میں کچھ دردمندوں نے ان بے بسوں کو اشیائے خورد نوش فراہم کرکے سانس لینے کی توانائی دی تو پہلامرحلہ کسی طرح گزر گیا ،لیکن دوسرے مرحلے کے لاک ڈاؤن کے بعد ان کی زندگی کی ڈور ٹوٹنے لگی اور وہ اوسان باختہ ہوکر اپنے آبائی وطن کا رخ کرنے لگے، لیکن یہاں بھی موت نے ان کو اپنا نوالہ بنایا ، موسم کی شدت وطمازت کو برداشت کرتے ہوئے مسلسل طویل مسافت کرتے رہے، لیکن تھک کر چور ہونے کے بعد کہیں پٹریوں پر لیٹ گئے تو تیز رفتار ٹرین نے کچل دیااور گھر پہنچنے کا خواب شرمندۂ تعبیر بھی نہ ہوا، اس روح فرسا واقعہ کے بعد بھی حکومت کی طرف سے ان بے کسوں کے لیے اسباب راحت مہیا کرنا تو دور ان کو اپنے ٹھکانے تک پہنچانے کے نام پر بھی بھدا مذاق کیا جارہا ہے ، کہنے کو تو حکومت نے آج سے ۱۵ٹرینوں کی مختلف ریاستوں میں آمد ورفت کا اعلان کردیاہے، لیکن جو طریقہ کار اپنایا گیاہے، وہ بھی مزدوروں کے لیے کاری ضرب ہی ہے کہ ان سبھی ٹرینوں کا کرایہ اے سی کے برابر ہوگا، نیز ٹکٹ کی بکنگ آئی آر سی ٹی سی سے آن لائن ہی ہوگی اور خورد ونوش کا کوئی بھی نظم نہیں ہوگا، آپ غور کریں کہ یہ غریبوں کو ان کے منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے ٹرین چلائی جارہی ہے یا اس کی رہی سہی کسر پوری کرنے کی کوشش ہے۔جالب نے ایسے نظام کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاتھا:
اے شاعر مشرق یہی جھوٹے یہی بد ذات
پیتے ہیں لہو بندۂ مزدور کا دن رات 
یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ ٹرین اسپیشل چلائی جارہی ہے اور کرایہ راجدھانی کا لیا جائے گا، جب کہ راجدھانی میں ملنے والی سہولتوں سے بھی انھیں مستثنیٰ رکھا گیا ہے، یہ حکومت کی سادگی ہے یا چالاکی اس کی وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اب ایسا لگتاہےکہ کمزوروں اور بے کسوں پر ظلم وزیادتی ان کا محبوب ترین مشغلہ ہوگیاہے، خدا جانے ان کو مشورے دینے والے  آئی اے ایس(افسران) کس سمت میں انھیں لے جارہے ہیں یا وہ خود ہی اپنی من پسند ملازمت کو برقرار رکھنے کی مجبوری میں مبتلا ہیں ۔ یہ بھی لمحۂ فکریہ  ہے کہ جب کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد کم تھی تو لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل در آمد کیا گیا اور اب جب کہ کیسیز کئی گنا زیادہ روزانہ بڑھ رہے ہیں تو شراب کے ٹھیکے کھولنے کی اجازت دے دی گئی اور بازار ودیگر شاپنگ کمپلیکش کھولنے میں راحت دی گئی۔حکومت کے متواتر فیصلے ایسے آرہے ہیں کہ ان میں تضاد اظہر من الشمس ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت مزدوروں کی راحت رسانی کا خیال کرتے ہوئے انھیں مفت سفر کی سہولت فراہم کرتی، لیکن یہ طرفہ تماشا ہی ہے کہ ثروت مندوں کو ہی مزید ثروت مند بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ مزدور اگر خوشحال ہوں گے تو وہ دلجمعی سے کام کریں گے۔ اگر وہ ڈٹ کر کام کریں گے تو کارخانے کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ جب کارخانے کی پیداوار بڑھے گی تو ملک کی معیشت ترقی کرے گی۔ آجر اور اجیر کے تعلقات اگر خوشگوار ہوں گے تو ملک میں صنعتی امن قائم ہوگا۔ جب محرومی البتہ مزدور کا مقدر بن جائے اور جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہ فرعون، تو پھر شاعرترجمانی کرتا ہے کہ:
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
عملی طور پر یہ طبقہ جن مشکلات کا شکار ہوتا ہے، ہم عام زندگی میں اسکا تصور بھی نہیں کر سکتے۔سرکار سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، لیکن سرکاری خزانے سے اس طبقے کی کوئی مدد تو درکنار بلکہ راقم نے کئی ایسے ویڈیو دیکھے کہ پولیس اہلکار ٹرین کی پٹریوں کے سہارے اپنی منزل کی طرف رواں دواں بے کس وناتواں مزدوروں سے وصولی کررہے ہیں، خدا معلوم یہ کیسی ذات ہے کہ انسانیت کا رتی برابر بھی عنصر اس میں موجود نہیں ہے۔حکومت ان بے کسوں کی معاونت کرکے منزل مقصود تک پہنچاتی نہ کہ ان سے اے سی کا کرایہ وصول کرکے لاک ڈاؤن کے خسارے کی بھرپائی کے لیے اس بے کس کے پیٹ پر لات مار تی، ایسے ہی ناگفتہ بہ حالات سے دوچار مزدوروں کے بارے میں علامہ اقبال نے کہاہے:
تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here