زراعت میں نجی شعبے کو تحقیق اور ترقی میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنا چاہئے: مودی

0
5

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے زراعت میں تحقیق اور ترقی کے لئے نجی شعبے میں زیادہ سے زیادہ شراکت کی ضرورت پر زور دیا ہے مسٹر مودی نے پیر کو زراعت اور کسان بہبود سے متعلق بجٹ کی فراہمی کے موثر نفاذ کے بارے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے پر اعتماد بڑھنے سے کاشتکاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ اب کاشتکاروں کو یہ اختیارات دینا ہوں گے جس میں وہ صرف گندم اور دھان کی کاشت تک ہی محدود نہیں ہیں۔ آپ نامیاتی کھانے سے متعلق سلاد سبزیوں کو اگانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی بہت ساری فصلیں ہیں جن کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ویڈ (سمندری سوار) اور بیج ویکس کے لئے بازار تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ویبنار میں زراعت ، دودھ ، ماہی گیری ، سرکاری ، نجی اور کوآپریٹو سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز اور دیہی معیشت کو مالی اعانت فراہم کرنے والے بینکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیر زراعت نے بھی اس ویبنار میں شرکت کی۔
وزیراعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے چھوٹے کسانوں کو مرکز میں رکھنے کے حکومت کے ویژن کاخاکہ پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ان چھوٹے کسانوں کو با اختیار بنانے سے ہندوستانی زراعت کو بہت سے مسائل سے نجات حاصل کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ انہوں نے اس مرکزی بجٹ میں زراعت کے لئے کچھ التزامات مثلا مویشی پروری، ڈیری اور ماہی پروری کےسیکٹر کو ترجیح دیتے ہوئے زرعی قرض کے نشانہ کو بڑھا کر 1650000 کروڑ روپے کرنا، دیہی بنیادی ڈھانچہ کے فنڈ کو بڑھا کر 40000 کرور روپے کرنا ، مائکرو آبپاشی کے لئے بجٹ کو دوگنا کرنا، آپریشن گرین اسکیم کے د ائرہ کار کو توسیع دے کر خراب ہونے والی مصنوعات تک بڑھانا اور مزید1000 منڈیوں کو ای – نیم کے ساتھ جوڑنے جیسے امور پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے 21 ویں صدی میں مسلسل بڑھتی ہوئی زرعی پیداوار کے دوران فصل کی کٹائی کے بعد کے انقلاب یا خوراک کی ڈبہ بندی کے انقلاب اورقدر میں اضافہ کے لئے ہندوستان کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ اگر یہ کام دو تین دہائیاں قبل ہوگیا ہوتا تو یہ ملک کے لئے بے حد اچھا ہوا ہوتا۔وزیراعظم نے زراعت سے منسلک ہر ایک سیکٹر مثلا غذائی اجناس، سبزیوں، پھلوں اور مچھلیوں میں ڈبہ بندی کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ کاشتکاروں کو اپنے گاؤں کے نزدیک اسٹوریج کی سہولتیں دستیاب ہوں۔ انہوں نے پیداوار کو کھیتوں سے ڈبہ بندی کی اکائیوں تک لے جانے کے نظام میں بہتری لانے پر زور دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان یونٹوں کی مدد فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او) کے ذریعہ کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ملک کے کسانوں کو اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کے لئے متبادلوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ‘‘ڈبہ بند خوراک کے لئے ہمیں اپنے ملک کے زرعی سیکٹر کو عالمی بازار تک توسیع دینی ہوگی۔ ہمیں گاؤں کے نزدیک زرعی- صنعتوں کے کلسٹرز کی تعداد کو ضرور بڑھانا چاہئے تاکہ گاؤں کے لوگ گاؤں ہی میں کاشتکاری سے متعلق روزگار حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ نامیاتی کلسٹرز اور درآمداتی کلسٹرز بھی اس سلسلے اہم رول ادا کریں گے۔ انہوں نے وژن پیش کیا کہ ہمیں ایک ایسے منظرنامہ کی طرف بڑھنا ہوگا جہاں زراعت پر مبنی مصنوعات گاؤں سے شہروں میں منتقل ہوں اور صنعتی مصنوعات شہروں سے گاؤں تک پہنچیں۔ انہوں نے اپنی مصنوعات کو عالمی بازاروں تک لے جانے کے لئے ایک ضلع، ایک پروڈکٹ اسکیم کا فائدہ اٹھانے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم نے اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ اگرچہ ہندوستان دنیا کے مچھلی پیداوار کرنے والے اوربرآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے لیکن بین الاقوامی بازاروں میں ڈبہ بند مچھلی میں ہماری موجودگی نہایت محدود ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس منظر نامہ کو تبدیل کرنے کے لئے اصلاحات کے علاوہ حکومت نے کھانے کےلئے پوری طرح تیار، پکانے کے لئے پوری طرح تیار ڈبہ بند پھلوں اور سبزیاں، ڈبہ بند سمندری خوراک اور موزاریلا پنیر جیسی مصنوعات کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے تقریبا 11000 کروڑ کی پیداوار سے منسلک ترغیبات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے آپریشن گرینس کے بارے میں بات کی جس کے تحت تمام پھلوں اور سبزیوں کے نقل و حمل کے لئے 50 فیصد سبسڈی دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف گزشتہ 6 مہینہ کے دوران ہی تقریبا 350 کسان ریل چلائی گئیں اوران ٹرینوں کے ذریعہ تقریبا ایک لاکھ میٹرک ٹن پھل اور سبزیاں پہنچائی گئیں۔ یہ کسان ریل پورے ملک کے لئے کولڈ اسٹوریج کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ آتم نربھر بھارت مہم کے تحت ملک بھرکے ضلعوں میں پھلوں اور سبزیوں کی ڈبہ بندی کےلئے کلسٹر زتعمیر کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ وزیراعظم مائکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اپ گریڈیشن اسکیم کے تحت لاکھوں مائکروفوڈ پروسیسنگ یونٹوں کی مدد کی جارہی ہے۔ انہوں نے چھوٹے کاشتکاروں کو ٹریکٹروں، بھوسے و الی مشینوں، یا دیگر فارم مشینریوں کے گھنٹہ وار کرایہ کے لئے سستے اور موثر متبادل فراہم کرنے کے لئے جدید ٹکنالوجی کے استعمال کی ضرورت پر زور د یا۔
انہوں نے زرعی پیداوار کو بازار تک پہنچانے کے لئے سستے اور موثر وسائل فراہم کرنے کے لئے ٹریکٹر کے استعمال پر زور دیا۔انہوں نے ملک میں سوائل ہیلتھ کارڈ کی سہولت کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اپنی زمین کی صحت کے بارے میں شعور میں اضافہ فصل کی پیداوار میں بہتری لائے گا۔
وزیر اعظم نے زراعت کے شعبے میں تحقیق اور ترقی( آر اینڈ ڈی) کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کے مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمیں کاشتکاروں کو ایسے متبادل فراہم کرنے ہوں گے جس میں وہ گندم اور چاول اگانے تک ہی محدود نہ ر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نامیاتی خوراک سے لے کر سلاد سے متعلق سبزیوں تک کی کوشش کر سکتے ہیں ، اس میں متعدد فصلیں ہیں۔ انہوں نے سی فوڈ اور شہد کی کاشتکاری کے لئے مارکیٹ کودستک دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی فوڈ کی شتکاری اور شہد کی کاشتکاری ہمارے ماہی گیروں اور شہد کی کھیتی کرنے والے کسانوں کے لئے اضافی آمدنی فراہم کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی شراکت داری سے کسان کا اعتماد بڑھے گا۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ٹھیکہ پرکھیتی باڑی بہت عرصہ سے کسی نہ کسی شکل میں ہندوستان میں موجودرہی ہے۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ ٹھیکہ پرکاشتکاری صرف ایک کاروباری تصور ہی نہیں رہے گی بلکہ ہمیں زمین کے متعلق اپنی ذمہ داری کوبھی پوری کرنی چاہئے۔
وزیر اعظم نے ملک کے اندر کاشتکاری میں ٹھوس کوششیں کرنے کی اپیل کی،تاکہ آبپاشی سے لے کر بوائی تک ، فصل کی کٹائی اور کمائی تک ایک جامع تکنیکی حل تلاش کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں زراعت کے شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اپ کو فروغ دینا ہوگا اور نوجوانوں کواس سے جوڑنا ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ برسوں کے دوران ، کسان کریڈٹ کارڈ کاشتکاروں ، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں تک تھوڑا تھوڑا کرکے بڑھایا گیا ہے اور گذشتہ ایک سال میں 1.80 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ دیئے گئے ہیں۔ گزشہ 6-7 برسوں کے مقابلے میں قرض کی فراہمی بھی دگنی ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعمیر کیے جانے والے 10،00 ایف پی اوز کے ساتھ انتظامات کوآپریٹیو کو مضبوط کررہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here