اگر مودی بات کریں تو مسائل حل ہونے کی امید: ڈھینڈسا

0
6

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر اور اکالی رہنما سکھ دیو سنگھ ڈھینڈسا نے کہا کہ اگر وزیراعظم نریندر مودی پہل کرتے ہوئے کسان رہنماؤں کو بلاتے ہیں اور ان سے بات کرتے ہیں تو زرعی قوانین کے مسائل کا کوئی مناسب حل نکل سکتا ہے۔
مسٹر ڈھینڈسا نے کہا کہ سوائے اس کے کوئی اور راستہ نہیں نظر آتا‘ جس سے حکومت اور کسانوں کے درمیان اختلافات ختم ہوں۔ اب تک جتنی بار بھی بات ہوئی وہ وزراء سے ہوئی ہے۔
انہوں نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا،’میں نے آج تک اس طرح کی تحریک نہیں دیکھی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی تحریک کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اتنی اہمیت نہیں ملی جتنی کسان تحریک کو مل رہی ہے۔ کسانوں کی تحریک عام آدمی کی تحریک بن گئی ہے لہٰذا اگر حکومت پہلے کسانوں کی باتیں مان لیتی ہے تو اچھا ہوتا۔ اب تو جتنی بھی کسان تنظیمیں ہیں‘ ان سبھی کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ قانون واپس ہو۔ میں نے وزیراعظم سے اپیل بھی کی تھی کہ آپ پہل کریں، کسانوں کو بلائیں اور اس مسئلے کا حل نکالیں، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا‘۔
راجیہ سبھا رکن نے کسان تحریک پر عوامی حمایت کے سلسلے میں کہا،’ 26 جنوری کو جو کچھ ہوا وہ شرپسند عناصر نے کیا ہے۔ عوام بھی اس بات کو سمجھتے ہیں لہٰذا اب نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر عوام کسانوں کی حمایت میں آ رہے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گٹریس اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹوڈو نے اس مسئلے پر تبصرہ کیا ہے۔ بین الاقوامی شخصیات نے ملک کو توڑنے کی بات نہیں کی ہے۔ وہ تو محض انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ اس سے آگے کچھ نہیں کہہ رہے ہیں‘۔مسٹر ڈھینڈسا نے کسان تحریک میں ایک ہی ریاست کے عوام کو شامل ہونے کے سلسلے میں تبصروں کے بارے میں کہا،’ یہ بھرم پھیلانے کے لیے کیا جا رہا ہے، کسان تحریک میں جتنے پنجاب کے لوگ ہیں اتنے ہی ہریانہ، اترپردیش اور دیگر ریاستوں کے ہیں۔ اگر کوئی اب بھی کہتا ہے کہ اس میں محض پنجاب کے لیے ہی عوام شامل ہیں تو یہ حیران کن بات ہے۔ ایم ایس پی کا سب سے زیادہ اثر پنجاب اور ہریانہ پر پڑتا ہے۔ جب ملک کو اناج کی ضرورت تھی تو پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے ہی پورے ملک کو اناج مہیا کروایا تھا‘۔
انہوں نے مزید کہا،’خالصتان کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ جان بوجھ کر اور سوچی سمجھی سازش کے تحت گمراہی پھیلائی جاتی ہے کہ سکھ خالصتان چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ کچھ میڈیا ادارے بھی اس بارے میں غلط تشہیر کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے‘۔
مسٹر ڈھینڈسا نے کہا کہ ان زرعی اصلاحاتی قوانین کے پاس ہونے کے بعد میں نے وزیراعظم کو خط لکھا تھا اور انھیں واپس لینے کی درخواست کی تھی کیونکہ یہ کسانوں کے حق میں نہیں ہیں۔ منڈیاں ختم کر دیں اور ایم ایس پی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ اس کے بعد مخالفت درج کروانے کے لیے میں نے اپنا پدم بھوشن اعزاز حکومت کو لوٹا دیا تھا۔ کئی کھلاڑیوں نے بھی کسانوں کے حق میں اپنے ایوارڈ اور اعزاز واپس کر چکے ہیں‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here