خفیہ اطلاع کے لیک ہونے پر مودی کو وضاحت پیش کرنی چاہئے: کانگریس

0
11

نئی دہلی : کانگریس نے بالاکوٹ ہوائی حملے کو قومی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اس پورے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک کے وقار پر لگے یہ داغ دھونے کے لئے سامنے آنا چاہئے سینئر کانگریس لیڈران اور سابق مرکزی وزراء اے کے انٹونی ، غلام نبی آزاد ، سشیل کمار شنڈے ، سلمان خورشید اور پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے بدھ کو یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ صحافی ارنب گوسوامی اور بی اے آر سی ، نجی نیوز چینلز کی ریگولیٹری اتھارٹی بی اے آرسی کے سابق چیف ایکزی کیٹیو افسر پارتھیو داس گپتا کے درمیان بالاکوٹ ہوائی حملے کے سلسلے میں جو وائٹس ایپ چیٹ سامنے آئے ہیں وہ قومی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے اور اس پورے معاملے کی فوری جانچ ہونی چاہئے۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بالاکوٹ ہوائی حملے کے بارے میں کسی صحافی کو جاننا غیر معمولی بات تھی۔ کسی بھی فوجی کارروائی کے بارے میں اطلاعات انتہائی خفیہ ہوتی ہیں اور صرف پانچ افراد ہی جن میں وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، ائر فورس کے چیف اور قومی سلامتی کے مشیر واقف ہوتے ہیں۔ ان پانچ افراد کے علاوہ ان اطلاعات کا افشا کرنا سنگین جرم ہے۔
صحافی ارنب کو بالاکوٹ فضائی حملے کے بارے میں کیسے پتہ چلا اور قومی سلامتی سے متعلق معاملہ کو کس طرح لیک کیا گیا ، اس کی تحقیقات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں پورا معاملہ اٹھائے گی اور حکومت سے اس معاملے پر جواب دینے کا مطالبہ کرے گی۔
مسٹر انٹونی نے کہا کہ ارنب گوسوامی اور بی اے آر سی کے سابق سی ای او کے درمیان گفتگو میں ان حقائق کا انکشاف ہوا ہے جو قومی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
وہاٹس ایپ پر ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو انتہائی افسوسناک اور انتہائی سنجیدہ ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ بالاکوٹ فضائی حملے کے بارے میں ایک صحافی کو پہلے اور کس کے ذریعہ آگاہ کیا گیا تھا۔
سابق وزیر دفاع نے کہا کہ یہ قومی سلامتی سے متعلق مسئلہ ہے۔ صرف پانچ افراد ہی فوج کے حملے سے واقف ہیں اور یہ حیرت کی بات ہے کہ اس انتہائی حساس معاملے کے بارے میں اطلاع کسی صحافی تک کیسے پہنچی۔ یہ بات واضح ہے کہ فوجی کارروائی سے متعلق یہ انتہائی خفیہ اور انتہائی حساس اطلاعات کسی وزیر یا فوج کی اعلی قیادت نے دی ہیں۔ یہ ملک دشمن سرگرمی ہے اور ملک دشمن سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو قومی سلامتی سے متعلق معاملے کی جامع تحقیقات کر کے سزا دی جانی چاہئے۔
مسٹر شنڈے نے بتایا کہ حکومت کا خفیہ انفارمیشن ایکٹ ایک اہم قانون ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنا ایک بہت بڑا جرم سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور اس معاملے میں کارروائی کرے اور قصورواروں کو سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملے کی مکمل تحقیقات ضروری ہے اور جو لوگ اس میں قصوروار ہیں انہیں سزا دی جانی چاہئے۔مسٹر غلام آزاد نے کہا کہ ایک طرف قومی سلامتی کا معاملہ ہےجس پر کسی بھی سطح پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو قومی سلامتی ہے اور دوسری طرف ٹی آر پی بڑھانے کی سازش کا معاملہ ہے جس میں مزید ٹی آر پی کے ذریعہ اثر و رسوخ بڑھا کر مزید اشتہارات حاصل کرنا ہے۔ دونوں سنگین جرائم یہاں ہوئے ہیں۔
ٹی آر پی میں اضافہ کرنے کی سازش کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ نہیں بلکہ مجرمانہ سازش کے ذریعہ سے ٹی آر پی میں گڑبڑی کرکے آگے بڑھے ہیں۔ اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں حکومت اور ایک شخص کے درمیان سازش ہوئی ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بی اے آر سی اور ٹی آر پی سسٹم کو قومی سلامتی کی قیمت پر جاری نہیں رکھا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ دو نجی نیوز چینلز حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھیں دور درشن کی مفت ڈش مہیا کرکے ملک کے خزانے کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ صرف دو چینلز کو ہی ڈی ڈی کی مفت ڈش کیوں فراہم کی جارہی ہے۔ اس طرح کے معاملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ، لہذا حکومت کو اس معاملے میں ضروری کارروائی کرنی چاہئے۔مسٹر خورشید نے عدلیہ سے متعلق مسئلہ کو اٹھایا اور کہا کہ ملک کے عوام پارلیمنٹ اور عدلیہ پر اعتماد کرتے ہیں۔ عدلیہ سے متعلق کچھ مشکوک مقدمات ادھر آئے ہیں ، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے اور دباؤ میں فیصلہ دیا گیا ہے۔ یہ غیر آئینی ہے اور کیونکہ لوگ اعتماد کی بنیاد پر انصاف کے مندر میں جاتے ہیں جہاں سب کو انصاف ملنا چاہئے اور جس اعتماد کے ساتھ لوگ انصاف کے اس مندر میں جاتے ہیں اسے تکلیف نہیں پہنچنی چاہئے لیکن ادھر ٹھیس پہنچانے والا واقعہ سامنے آنے کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جج بکتا ہے تو پھر ملک میں کچھ نہیں بچے گا اور لوگوں کا عدلیہ پر سے اعتماد ختم ہوجائے گا اور اس اعتماد کو فوری بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ارنب اور پرتھیو داس کے درمیان گفتگو کے کچھ حصے انتہائی سنجیدہ ہیں۔ کانگریس اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں تو اٹھے گا ہی لیکن ملک کا بھی اس سلسلے میں ردعمل آنا چاہئے اور پارٹی بھی اس کا انتظار کر رہی ہے۔
مسٹر کھیڑا نے بتایاکہ مسٹر مودی ، امیت شاہ اور ارنب گوسوامی نے ملک کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اس سے پوری قوم حیران ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ بظاہر نظر آنے والے لوگ کتنے بونے ہوجاتے ہیں کہ وہ ایک صحافی کے ساتھ مل کر اپنا ایمان بیچ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی بھی عدلیہ پر اور ملک کے آئین کے حلف اٹھانے والوں پر سوالیہ نشان نہیں لگے تھے۔ 73 برسوں میں پہلی مرتبہ اس طرح کی گندگی جہاں آئین ، روایت ، کنونشن ، اصول ، قوانین سبھی ملک کی اعلیٰ قیادت کے ہاتھوں منتشر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ “ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ارنب کو یہ اطلاع کہاں سے ملی ہے اور کس نے دی ہے اور ارنب نے یہ اطلاع کہاں سے حاصل کی ہے۔ کیونکہ ابھی ہمیں صرف پرتھیو داس گپتا کے بارے میں پتہ ہے جو ان کو دی گئی۔ کوئی بھی شخص ملک ، جمہوریت اور قومی سلامتی سے بڑا نہیں ہے۔ “

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here