شیوپال کو’بھاگید راسنکلپ مورچہ‘میں شامل کرنے کی کوششیں تیز

شیوپال کو مورچے میں شامل کرنے سے پہلے اویسی کے ساتھ ان کی ملاقات ہوگی

0
93

لکھنؤ:سال 2022 اسمبلی انتخابات کے پیش نظر وجود میں آئے ’بھاگیدار سنکلپ مورچہ‘ میں پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کی شمولیت کے لئے مورچہ کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر نے شیوپال سنگھ یادو سے ملاقات کر کے اس پر تبادلہ خیال کیا۔سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر کی قیادت میں بنے اس مورچہ میں اب تک اپنا دل(کرشنا پٹیل)قومی ایکتا دل کے علاوہ اسدالدین اویسی کی ایم آئی ایم بھی شامل ہوچکی ہے۔اب اس میں شیوپال یادو کی پارٹی پرگتی شیل سماج وادی پارٹی(لوہیا) کو بھی شامل کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق شیوپال یادو آئندہ اسمبلی انتخابات میں اپنی پرانی پارٹی سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے تھے لیکن پارٹی سربراہ اکھلیش یاو نے یہ کہہ کر ان کے جوش کو زک پہنچا دیا کہ اسمبلی انتخابا ت میں ایس پی شیوپال یادو کی روایتی سیٹ اٹاوہ کی جسونت نگر سے کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں اتارے گی اور اگر الیکشن کے بعد ایس پی کی حکومت بنی تو شیوپال یادو کو کابینی وزیر بنایا جائے گا۔
شیوپال یادو ایس پی سربراہ و اپنے بھتیجے اکھلیش یادو کے اس بیان پر ناراض ہوگئے اور کہا کہ ان کی پارٹی الیکشن میں قابل احترام سمجھوتہ چاہتی ہے۔ ان کی پارٹی کسی کے رحم و کرم پر منحصر نہیں ہے۔
وہیں ریاست میں روزانہ کی بنیاد پر ہورہے نئے سیاسی ڈیولپمنٹ کے درمیان شیوپال کو نئے مورچہ میں شامل کرنے کے لئے جمعرات کو اوم پرکاش راج بھر نے ان سے ملاقات کی۔ دونوں لیڈروں کے درمیان اسمبلی انتخابات کے ضمن تبادلہ خیال ہوا۔ مسٹر راج بھر نے کہا کہ شیوپال سے اسمبلی انتخابات میں ریاست کی عوام کو بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط متبادل دینے پر گفتگو ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں بات کافی مثبت رہی۔
شیوپال کو مورچے میں شامل کرنے سے پہلے اویسی کے ساتھ ان کی ملاقات ہوگی جس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ کون پارٹی کس سیٹ سے انتخاب لڑے گی۔ مسٹر اویسی نے بدھ کو لکھنؤ میں اوم پرکاش راج بھر سے ملاقات کی تھی اور اسمبلی انتخابات ’بھاگیدار سنکلپ مورچہ‘کے ساتھ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔
مسٹر راج بھر نے کہا کہ مورچہ میں دیگر چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کو بھی شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ریاستی عوام کو بی جے پی کا متبادل دیا جاسکے۔ ایس پی یا بی ایس پی اب بی جے پی کو ٹکر نہیں دے سکتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here