کسان ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، حکومت کو فوراَ ان کے مطالبات تسلیم کرنے چاہئے۔ ارجمن بانو

0
5

نئی دہلی: ملک میں کسانوں کی حالت اور کسانوں کے تئیں حکومت کی بے حسی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی دہلی مہیلا کانگریس کی صدر ارجمن بانو (روحی سلیم)نے کہا کہ کسان ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اور اگر ریڑ ھ کی ہڈی نہیں رہے گی تو ملک کیسے قائم رہے گا۔
انہوں نے کہاکہ ملک میں کسانوں کی صورت حال انتہائی دگرگوں ہے اور حکومت منڈی نظام میں اصلاحات کے بجائے منڈی نظام ہی ختم کرنے پر آمادہ نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ جن ریاستوں میں منڈی نظام ختم ہوگیا ہے وہاں کسانوں کی صورت حال بہت خراب ہے اور وہ ساہوکاروں اور بنیوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ جن ریاستوں میں منڈی نظام ہے وہاں کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) پر کسانوں اپنا اناج فروخت کرپاتے ہیں لیکن جہاں منڈی نظام نہیں ہے وہاں کسانوں کو ایم ایس پی سے انتہائی کم قیمتوں پر اپنا اناج فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں سخت خسارہ کا سامنا کرنا پڑتاہے اور لاگت بھی نہیں نکل پاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملک میں کسان دونوں طرف سے استحصال کا شکار ہورہے ہیں ایک تو یہ کہ جب وہ اپنی پیداوار فروخت کرتے ہیں انتہائی کم قیمتوں پر کرنا پڑتاہے اور جب وہ بوائی کے لئے بیج خریدتے ہیں تو انہیں انتہائی اونچی قیمت پر خریدنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں مکا اور گیہوں وغیرہ کی بوائی کا موسم ہے تو جہاں کسان مکا 900 روپے کوئنٹل فروخت کرچکا ہے وہیں اب بیج کی شکل میں انہیں 2200 سے لیکر 3200 روپے فی کوئنٹل خریدنا پڑ رہا ہے۔
محترمہ ارجمن بانوں نے کسان تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کسان ہمارے لئے اناج پیدا کرتے ہیں اگر وہ اناج پیدا کرنا چھوڑ دیں تو ہمیں بھوکوں مرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ کسان تین زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ پانچ کئی ماہ سے سڑکوں پر ہیں، دو ماہ تک انہوں نے پنجاب سمیت ملک کے متعدد حصوں میں مظاہرہ کیا لیکن حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔ اب جب کہ کسان تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق دہلی کوچ کر رہے ہیں ان پر پانی کی بوچھار اور آنسو گیس کے گولے داغے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کو کسانوں سے لڑانے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر وہ زرعی قوانین واپس اور کسانوں کے ساتھ بات چیت کرکے مسئلہ کا حل کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here