مردلا سنہا نہیں رہیں

0
7

نئی دہلی: مشہور ادیب اور گوا کی سابق گورنر مردلا سنہا کا آج یہاں انتقال ہوگیا۔
وہ 77 برس کی تھیں۔انہیں دیوالی کی دیر رات زبردست دل کا دورہ پڑا تھا۔جس کے بعد انہیں فورٹس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
ان کے بیٹے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نوین سنہا نے یواین آئی کو بتایا کہ تین دن علاج کی وجہ سے کل ان کی حالت میں بہتری بھی دکھائی دی لیکن کل شام سے وہ بے ہوشی کی حالت میں چلی گئیں اور آج دن میں قریب ڈھائی بجے انہوں نے آخری سانس لی۔
محترمہ سنہا کی پیدائش 27 نومبر 1942 کو بہار میں مظفر پور ضلع کے چھپرا گاؤں میں ہوئی تھی۔ انہوں نے نفسیات میں ایم اے کرنے کے بعد بی ایڈ کیا اور مظفرپور کے ایک کالج میں لیکچرر رہیں۔ کچھ وقت تک موتی ہاری کے ایک کالج میں پرنسیپل بھی رہیں۔ بعد میں انہوں نے نوکری کو ہمیشہ کےلئے الوداع کہ کر خود کو ہندی ادب کی خدمت کےلئے مختص کردیا۔ انہوں نے پانچواں استمبھ کے نام سے ایک سماجی میگزین نکالی۔ ان کے شوہر ڈاکٹر رام کرپال سنہا شادی کے وقت کسی کالج میں انگریزی کے پروفیسر تھے لیکن وہ بعد میں سیاست میں آئے اور بہار حکومت میں منتری بھی رہے۔ محترمہ سنہا اٹل بہاری واجپئی کے وزیراعظم ہونے کے زمانے میں مرکزی سماجی بہبود بورڈ کی صدر بنیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے محترمہ سنہا کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زبردست عوامی خدمت کےلئے یاد کیا جائےگا۔ انہوں نے ادب ،ہنر اور ثقافت کے شعبہ میں بڑا تعاون دیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ وہ ان کے انتقال سے بہت پریشان ہیں اور ان کے گھروالوں اور مداحوں کے تئیں تعزیت ظاہر کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here