مشہور سیریل کلر رامن راگھون عرف کنپٹی مار کوگرفتار کرنے والے پولیس افسر چل بسے

0
27

ممبئی 15 نومبر (یو این آئی )ممبئی میں 1960 کے عشرہ کے دوران عروس البلاد میں مشہور ہونے والے سریل کلر اور قاتل رامن راگھو عرف کنپٹی مار کو بڑی جدو جہد اور اپنی حکمت عملی سے گرفتار کرنے والے ایک سبکدوش اسسٹنٹ پولیس کمشنر (اے سی پی) الیکس فیالھو کا انتقال ہوگیا- کنپٹی مار کو گرفتار کرنے کی وجہ سے پولیس افسرکو کافی شہرت ملی تھی،لیکن پھر وہ گمنامی کے اندھیروں میں کھوگئے ایک پولیس عہدیدار نے بتایا ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ ، بیٹے ، بیٹی اور پوتے شامل ہیں۔ان کی آخری رسومات باندرا کے سینٹ اینڈریوز چرچ میں ادا کی گئیں۔
بتایا جاتا ہے کہ ممبئی میں ستمبر 1968 کے دوران ایک بار پھر خوفناک سیریل کلر سلسلہ وار قاتل رامن راگھو نے دہشت پھیلا رکھی تھی ،شہر کے مغربی مضافاتی علاقوں میں یہ جنونی قاتل گھرکے باہر سورہے افراد کو نشانہ بناتاتھا،اس کے لیے اس نے ایک مخصوص قسم آلہ قتل تیار کیاتھا۔اس کے بارے میں عرصے تک شہراور مضافاتی علاقوں میں طرح طرح کی کہانیاں سننے میں آتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق انہیں راگھوکی گرفتاری کے نتیجہ میں صدرکےپولیس میڈل سے نوازا گیا تھا۔ اس دور میں فیالہو ڈونگری میں تعینات ایک سب انسپکٹر تھے اور انہوں نے بھنڈی بازار میں خوجہ قبرستان کے پاس بھیس بدل کر راگھون کو پکڑ لیا۔قاتل نے بعد میں تفتیش کے دوران نے شہر اور مضافات میں 41 قتل کرنے کا ارتکاب کیا ، اور اس نے زیادہ تر فٹ پاتھ پر زندگی بشر کرنے والے افراد تھے۔ راگھو نے 1966-68 کے درمیان ممبئی میں قتل کی وارداتوں سے شہریوں کوخوفزدہ کیا تھا،شام کے وقت سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں اور جھوپڑابستیوں کے لوگ رات بھر جاگ کر گزارتے تھے۔ اس نے متعدد غریب مرد اور خواتین کو لوہے کی چھڑی کی طرح سخت اور دو ٹوک چیز کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیاتھا۔
پولیس نے بتایاکہ رامن راگھو کی گرفتاری کے چند سال بعد اسے پونے کے ساسون اسپتال کے نفسیاتی مرض کر شعبے میں داخل کیاگیااور وہ گردوں کے مرض میں بھی مبتلا ہوگیا تھا، راگھو کا 1995 میں اسی مرض کی وجہ سے موت واقع ہوگئی تھی۔ رامن راگھوساٹھ کی دہائی میں ممبئی کا ایک بدنام زمانہ قاتل تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ نفسیاتی مریض بھی تھا۔ اس نے 41 کے قریب لوگوں کے قتل کیے تھے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ اس کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے اسے سزائے موت سے راحت ملی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here