لاک ڈاون :کورونا کے خلاف نریندرمودی کا تاریخی فیصلہ

0
13

آر کے سنہا
منگل کی شام وزیر اعظم نریندر مودی جی نے قوم کے نام اپنے خطاب میں پورے ملک میں 21 دنوں کے لاک ڈاون کا اعلان کر کے ایک سخت پیغام تو دے ہی دیا ہے۔ یہ ’نہ بھوتو نہ بھوشیتی‘‘ ہے۔ ایسا نہ پہلے ہوا نہ آگے ہوگا۔ لیکن، یہ پیغام بہت ہی دانشمندانہ اور ملک کے لئے لازمی بھی تھا۔ ہاتھ جوڑ کر 21 دن کے لئے صبر کرنے کی اپیل کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے پہلے ایسے وزیر اعظم ہوں گے جو بحران کی اس گھڑی میں ملک کے پورے 130 کروڑ عوام کی جذبات کو سمجھ کر اور ان کی رضامندی سے ایسا سخت قدم اٹھا رہے ہیں۔ مودی جی نے کہا کہ اگر اگلے 21 دن تک ہم لاپرواہ رہے تو ہمیں 21 سال پیچھے جانے میں ذرا بھی تاخیر نہیں ہوگی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں دوسرے ممالک کے تجربات سے سبق لے کر اپنے ملک کے لئے بہترین اور درست قدم اٹھانا مناسب ہے۔ ان کے کہنے میں وزن ہے۔ جب یہ وبا اٹلی، اسپین اور امریکہ میں پھیلی تو ان ممالک میں بھی چین کی طرح لاک ڈاؤن کرنے کا موقعتو آیا ہی تھا۔ لیکن، اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ان کا میڈیکل مینجمنٹ بہترین اور قابل ہے اور لاک ڈاون کے فیصلے سے ملک کے عوام کو ایسا لگے گا کہ عوام کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن، وہاں لاک ڈاون کا فیصلہ نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے اٹلی میں لاشوں کو ڈھونے والا کوئی اپنا بچا ہی نہیں۔ فوج کو لاشوں کو ٹرک میں بھر کر کہیں دور لے جا کر دفن کرنے کا کام کرنا پڑ رہا ہے جو روزانہ ٹیلی ویژن چینلوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہی صورت حال اسپین میں بھی پیدا ہو گئی ہے۔ا سپین جیسا خوبصورت ملک بھی کورونا کے خوفناک قہرسے ایسی بری طرح متاثر ہوا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پورا ملک ہی بکھر گیا ہو ۔ امریکہ سے تو ہمارے بہت سے قریبی رشتہ اور دوستوں کے روزانہ فون آ رہے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگوںکی پوزیشن تو امریکہ سے کہیں بہتر ہے۔ کیونکہ، تمام جدید خصوصیات کے رہتے ہوئے بھی امریکہ میں صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے۔
مودی جی نے اپنے قوم کے نام خطاب کے دوران بہت ہی اچھی طرح سے سمجھایا کہ کورونا سے لڑنے کا واحد حل یہ ہے کہ ہم وائرس کے بڑھتے ہوئے چین کو ہی توڑ دیں۔ کیونکہ، اگر ایک شخص جب کسی بھی وجہ سے اور کسی بھی طرح سے متاثر ہوتا ہے اور وہ اگر معاشرے میں گھومتا رہے تو سینکڑوں لوگوں کو دانستہ یا نادانستہ طور پرمتاثر کر سکتا ہے۔ بھارت میں آبادی کا بوجھ یورپ – امریکہ کے مقابلے بہت زیادہ ہے اور لوگوں کی آبادی بھی زیادہ ہے۔ اس لئے ہم نے انفیکشن کا سلسلہ توڑ انہیں اور اگر اسی طرح ہم ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہے تو انفیکشن زیادہ اور بڑے پیمانے پر پھیلے گا۔
وزیر اعظم نے اندازوں کے ذریعے بہت اچھی طرح سے بتایا کہ پوری دنیا میں متاثرہ افراد کی تعداد کو ایک لاکھ کی تعداد تک پہنچنے میں 67 دن لگے۔ جبکہ، 1 لاکھ سے 2 لاکھ ہونے میں اسے 67 دنوں کے مقابلے میں محض 11 دن لگے اور 2 لاکھ سے 3 لاکھ پہنچنے میں صرف 4 دن ہی لگے۔ اگر اسی طرح سے وائرس پھیلتا ہے تو مناسب تو یہی ہے کہ ہر قیمت پر اس انفیکشن کو پھیلنے سے روکا جائے۔
لہذا یہ 21 دن کا تاریخی لاک ڈاون خوش آئند ہی ہے۔ ایسا دنیا میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور خدا نہ کرے کہ مستقبل میں بھی ایسا کبھی ہو۔ شروعات میں تو اپنے ملک میں سب ٹھیک تھا۔ چین کے شہر اوہان میں جب یہ انفیکشن پھیلا تو ہم وہاں سے فوری طور پر اپنے ہندوستانی شہریوں کو اور ارد گرد کے ممالک بھوٹان، نیپال، سری لنکا اور مالدیپ کے پھنسے ہوئے شہریوں کو بھی کامیابی سے لے کر آئے۔ انہیں گڑگاؤں کے پاس آئی ٹی بی پی کے ایک آئیسولیشن کیمپ میں رکھا گیا اور وہ 14 دن کے بعد ٹھیک ہو کر وہ اپنے گھروں میں واپس چلے گئے۔ لیکن، غلطی ایسے ہوئی بین الاقوامی پروازوں سے آنے والے تمام لوگوں کو سختی سے آئیسولیشنمیں نہیں ڈالا گیا۔ تمام بین الاقوامی پروازوں سے آنے والے ملکی اور غیر ملکی مسافر جو بھارت میں آ رہے تھے انہیں سختی سے آئیسولیشن کیمپ میں بھیجنا چاہیے تھا۔ لیکن، ہمارے ایئر پورٹ کے عملے نے ان کا بخار دیکھااور عام طور پر صحت کوٹھیک – ٹھاک دیکھ کر انہیں چھوڑ دیا۔ یہ مناسب تو نہیں تھا۔ یہیں پر ہم سے غلطیاں ہوئیں کیونکہ، وزیر اعظم مودی جی نے خود کہا کہ کسی متاثرہ شخص میں بھی انفیکشن کے علامات فوری طور پر سامنے نہیں آتے۔ اس کی علامتیں ابھر کر سامنے آنیمیں 4 سے 5 دن اور کبھی کبھی 10 دن بھی لگ سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ فیصلہ کہ بین الاقوامی مسافروں کو ان کے گھر جانے دیا جائے یہ سب سے بڑی غلطی ہوئی۔ جس کی وجہ سے یہ وائرس ملک کے دیگر حصوں میں، خاص طور کیرل اور مہاراشٹر کے شہروں میں تیزی سے پھیل گیا۔ اب تو مغربی بنگال، بہار، جھارکھنڈ اور اوڈیشہبھی اس انفیکشن سے اچھوتا نہیں رہ گیا ہے۔
24 تاریخ کو کئے گئے اس لاک ڈاؤن کے اعلان کے ناقدین کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ اب بھی وہ طرح – طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس لاک ڈاؤن سے معیشتپر برا اثر پڑے گا۔ ارے بھائی، جب جان ہے تبھی تو جہان ہے۔ جب زندہ رہو گے تبھی تو معیشت کی بات کرو گے یا اس کا نفع – نقصان کا اندازہ کرنے کے لئے رہو گے؟ جب پوری دنیا میں معیشت سست رفتار سے چل رہی ہے، تو کچھ دن ہم بھی برداشت کر لیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ 21 دن تو بہت زیادہ ہیں۔ ذرا ان سے پوچھئے کہ یہ اشرافیہ طبقے کے لوگ سال میں کئی بار خاندان کے ساتھ دو – دو ہفتے کی چھٹی منانے بیرون ملک یا پہاڑوں کا سفر کرتے ہیں کہ نہیں؟ یہ کس طرح ہوتا ہے؟ اس سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ لوگوں کو پہلے گھر کے لئے، بچوں کے لئے وقت نہیں ہوتا تھا اور جب گھر میں رہنے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ ہی ان کے لئے پریشانی کا موضوع بن گیا۔ پہلے بیوی بچوں کے لئے وقت نہیں تھا۔ اب بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارنے میں انہیں کتنی بوریت ہو رہی ہے۔ ایسے لوگوں کا خدا ہی مالک ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب غریب مزدوروں کا کیا ہوگا؟ غریب مزدوروں کے لیے دکھاوے کے آنسو بہانے والے ذرا یہ بتائیے کہ لاکھوں کی تعداد میں مشرقی اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کے مزدور مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈو اور گجرات وغیرہ ان ترقی یافتہ ریاستوں میں کام کے لئے جاتے ہیں تو کیا یہ دسہرہ، دیوالی، بھائی دوج اور چھٹھ منانے کے لئے گھر چھٹی پرنہیں جاتے۔ جو ہمارے ملک بھر میں نیپالی مزدور ہیں وہ کیا دسئیں (دسہرہ) منانے نیپال نہیں جاتے۔ یہ تمام جاتے ہیں اور سال میں جاتے ہیں اور تین ہفتے سے پہلے کوئی لوٹتا بھی نہیں ہے۔ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ ناقدین کو ضرور فرق پڑ رہا ہے۔ یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ اگر یہ وبا بھارت جیسے ملک میں پھیلی جہاں کہ آبادی اتنی گنجان ہے اور طبی سہولت کی کمی ہے تو ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ جائے گی۔
ان ناقدین کیعوام پرواہ نہ کریں۔ جب ملک نے مودی جی پر اعتماد کیا ہے تو سبھوں کو مودی جی پر ہی بھروسہ کرنا ہے اور اس بحران کی گھڑی میں متحد ہوکر اپنے لیڈر کی بات ماننے میں ہی سب کا بھلا ہے۔ یہ ایک جنگ ہے اور جنگ بغیر سپہ سالار پر مکمل اعتماد کے کس طرح جیتیں گے؟ آئیے، مودی جی کی بات اور ان کی رہنما ہدایات کے مطابق کام کرکے آگے بڑھیں۔ جیسا کہ مودی جی نے یقین دلایا ہے کہ اگر 21 دنوں میں ہم نے کورونا کے انفیکشن کا سلسلہ توڑ دیا تو ہو سکتا ہے کہ پھر ہم اپنے معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں جلد ہی کامیاب ہو جائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here