جمعہ کے لئے بڑی تعدادمیں اکٹھا نہ ہوں اور ظہر کی نماز ادا کر لی جائے:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

0
64

نئی دہلی، 25مارچ (یو این آئی)کورونا وائرس کے پیش نظر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا ہے اس وقت کرونا وائرس کا خطرہ بہت بڑا خطرہ ہے، عام طور پر بیماری کا اثر ایک شخص کی اپنی ذات پر ہوتا ہے؛ لیکن اس سے شدید اجتماعی ضرر کا اندیشہ ہے لہذا جمعہ کے لئے اکٹھا نہ ہوں اور ظہر کی نماز ادا کرلی جائے۔
انہوں نے آج یہاں جاری اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ اسلام میں نماز کو بڑی اہمیت حاصل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے، اور نمازوں میں بھی نماز جمعہ کو ایک خصوصی اہمیت حاصل ہے، جو عام طور پر بڑی جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے تین بار جمعہ کی نماز کسی عذر اور بیماری کے بغیر چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیں گے، یعنی اس سے نیکی کی توفیق سلب کر لی جائے گی، اس سے جمعہ کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ لیکن آپ کے اسی ارشاد میں اس بات کی وضاحت بھی موجود ہے کہ اگر کوئی شخص عذر کی بناء پر اور خاص طور پر بیماری کی وجہ سے جمعہ کی نماز ادا نہ کر سکے تو وہ اس وعید میں شامل نہیں، اس وقت کرونا وائرس کا خطرہ بہت بڑا خطرہ ہے، عام طور پر بیماری کا اثر ایک شخص کی اپنی ذات پر ہوتا ہے؛ لیکن اس سے شدید اجتماعی ضرر کا اندیشہ ہے، اور شرعاََ اپنے آپ کو اور دوسروں کو ضرر سے بچانا واجب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا ضرر ولا ضرار،ان حالات میں ماہرین کی رائے کے مطابق جمعہ کے لئے لوگوں کا جمع ہونا بے حد نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؛ لہٰذا جب تک حالات معمول پر نہ آجائیں، بہتر ہے کہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں ظہر کی نماز ادا کر لیں۔
انہوں نے کہا کہ مسجدمیں یا کسی اور جگہ جمعہ کے لئے محلہ کے لوگوں کا اکٹھا ہونا مناسب نہیں، البتہ مسجد میں چند افراد جمعہ پڑھ لیں، جس میں نہایت مختصر خطبہ دیا جائے، اور مختصر نماز پڑھ لی جائے؛ تاکہ مسجدیں جمعہ سے محروم نہ رہ جائیں، یہ اس لئے بھی ضرور ی ہے کہ حکومت نے کسی بھی طرح کے اجتماع کو ممنوع قرار دے دیا ہے، اب اگر مسلمان اپنے طور پر اس سے نہیں رکیں گے تو حکومت کو مداخلت کا موقع ملے گا اور اس سے مستقبل میں مسجدوں میں حکومت کی دخل اندازی کا راستہ کھل جائے گا؛ اس لئے تمام مسلمان بھائیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس مسئلہ میں حقیقت پسندی اور مصلحت اندیشی کا ثبوت دیں، انسانی زندگی کی حفاظت کے سلسلہ میں شرعی ہدایات کو ملحوظ رکھیں اور جذبات کی رَو میں بہنے کے بجائے شریعت کے منشاء کے مطابق عمل کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here