اکیس دن میں جیتنی ہے کورونا سے لڑائی : مودی

0
15

نئی دہلی، 25 مارچ ( یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ملک کورونا وائرس کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے اور اس سے ہر حال 21 دن میں جیت حاصل کرنی ہے نہیں تو اس سے اتنا نقصان ہوگا جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ مسٹر مودی نے آج اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کے لوگوں کے ساتھ یہاں ویڈیو انفرنس کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اس میں 21 دن لگنے والے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ اسے 21 دن میں جیت لیا جائے ۔ انہوں نے کہا’’ جن مشکلات کا سامنا آج ہم کر رہے ہیں، جو مشکلات آج پیش آ رہی ہیں، اس کی عمر فی الحال 21 دن ہی ہے ، لیکن اگر کورونا وائرس کا بحران ختم نہیں ہوا، اس کا پھیلاؤ نہیں رکا تو کتنا زیادہ نقصان ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس جیسی وبا سے نمٹنے کا ابھی واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم سماجی فاصلے پر توجہ دیں، گھروں میں رہیں اور آپس میں دوری بنائے رکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے ساتھ منسلک صحیح اور درست معلومات کے لئے حکومت نے واٹس ایپ کے ساتھ ساتھ ایک ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا ہے جس پر تمام معلومات دستیاب ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ آفت بہت بڑی ہے ۔ لوگوں کو افواہوں سے دور رہنا اور ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر کوئی بھی دوا خود نہ لینے کی نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا’’ ہم سب کو ہر طرح کی افواہ سے بچنا ہے ۔ مایوسی پھیلانے کے لئے ہزاروں وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن زندگی تو امید اور یقین پر قائم ہے ۔ شہری کے ناطے قانون اور انتظامیہ کو جتنا زیادہ تعاون کریں گے، اتنے ہی بہتر نتائج برآمد ہو ں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک اور دنیا کے سامنے اتنا بڑا چیلنج ہو تو مشکلا ت نہیں آئیں گی، سب کچھ اچھا ہو گا یہ کہنا اپنے ساتھ دھوکہ کرنے جیسا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام چیزوں کے ذکر کے درمیان یہ بھی صحیح بات ہے کہ دنیا بھر میں کورونا سے متاثر ایک لاکھ لوگ صحتیاب بھی ہوئے ہیں اور ہندوستان میں بھی درجنوں لوگ پر کورونا کے شکنجے سے باہر نکلے ہیں ۔ اٹلی میں 90 سال سے زیادہ عمر کی خاتون بھی صحتیاب ہوئی ہے ۔ کورونا کے خلاف جنگ میں بچوں کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچے اپنے والدین اور دیگر لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ۔ کس طرح ہاتھ دھونے ہیں اور غلط عادات کو چھوڑنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں، کاشی سب کی رہنمائی کر سکتی ہے، سب کے لئے مثال پیش کر سکتی ہے۔ آپ کا رکن ِ پارلیمان ہونے کے ناطے مجھے، ایسے وقت میں آپ کے درمیان ہونا چاہئے تھا ۔ یہاں کی مصروفیت کے باوجود میں وارانسی کے بارے میں مسلسل اپنے ساتھیوں سے اپ ڈیٹ لے رہا ہوں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here