جذبات ، بھرم اور خوف کی تجارت کر کے حکومت چلانے والوں سے لوگ رہیں ہوشیار : سونیا

0
12

پٹنہ : کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بہار اسمبلی انتخاب کیلئے پارٹی کی تشہیر ی مہم کا آغاز کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کانام لئے بغیر اس پر جذبات ، بھرم اور خوف کی تجارت کر کے حکومت کرنے کا الزام لگایا اور کہاکہ مہا تما گاندھی کے سچ ، عدم تشدد اور ستیہ گرہ کے راستے پر چلتے ہوئے ہم سب کو متحد ہو کر اس کے خلاف لڑنا ہوگا۔
مسز گاندھی نے جمعہ کو بابائے قوم مہا تما گاندھی کی 151 ویں جینتی کے موقع پر مغربی چمپارن میں ان کے آدم قدمجسمے کی نقاب کشائی اور گاندھی چیتنا ریلی کو آن لائن کے توسط سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں کچھ لوگ جذبات ، بھرم اور خوف کی تجارت کر کے حکومت چلا رہے ہیں ان سب سے عوام ہوشیار رہے اور صحیح فیصلہ لے ۔
انہوں نے کہاکہ اس کے لئے گاندھی جی کے سچ ، عدم تشدد اور سوراج کے راستے پر چلتے ہوئے ہم سب کو متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ یہی مہاتما گاندھی کو سچا خراج تحسین ہوگا۔ کانگریس گاندھی جی کے سچ اور عدم تشدد کی راہ پر مسلسل چل کر جدوجہد کر رہی ہے اور سب کے تعاون سے اس میں کامیاب بھی ہوگی ۔
کانگریس صدر نے بودھ ، مہاویر ، گرو گوند سنگھ کی جائے پیدائش اور بابائے قوم مہا تما گاندھی کی کرم بھومی بہار کو سلام کرتے ہوئے کہاکہ آج مسٹر لال بہادر شاستری کی بھی یوم پیدائش ہے ۔ وہ انہیں بھی سلام پیش کرتی ہیں جنہوں نے ’ جے جوان جے کسان ‘ کا نعرہ دیا ۔ یہ نعرہ اس مشکل دور میں پہلے سے بھی زیادہ حوصلہ دیتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس کے لئے مہا تما گاندھی مسز گاندھی نے کہاکہ باپو کے لئے ترقی کا معنی انسان کی ہمہ جہت ترقی اور سماج کے سب سے غریب فرد کو ترقی سے جوڑنا تھا نہ کہ چند لوگوں کی ترقی سے ۔ جیسے چمپارن میں نیل کی کھیتی سے کچھ لوگ مالا مال ہورہے تھے لیکن ہزاروں کسان غریبی اور بھوک مری کے شکار ہورہے تھے ۔ گاندھی جی کیلئے یہ سخت نا انصافی اور گناہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ اسی وجہ سے کانگریس پارٹی کا ہر ایکشن پلان عوام کو دھیان میں رکھ کر بنتا ہے نہ کہ کچھ چند لوگوں کیلئے ۔
کانگریس صدر نے کہاکہ جب بھی کانگریس غریبوں کی ترقی کیلئے کام کرتی ہے تو کچھ طاقتیں اپنے ذاتی مفاد کیلئے ان کے خلاف کھڑی ہوجاتی ہیں۔ ملک کے لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب کانگریس نے دیہی علاقوںمیں بے روزگاری دور کرنے کیلئے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ( منریگا ) منصوبے کی شروعات کی تو ان لوگوں نے کس طرح سے مخالفت کی اور اس کامزاق اڑایا تھا۔ آج منریگا جیسے منصوبے نہیں ہوتے تو کورونا وبا کے دوران کروڑوں لوگ بھوک مری کا شکار ہوگئے ہوتے۔
مسز گاندھی نے کہاکہ عوام دیکھ اور سمجھ رہی ہے کہ آج ملک میں ایسی پالیسیاں بن رہی ہیں جس سے گنتی کے چند لوگ اس وقت کے چمپارن کے نیل کی کھیتی کی طرح مالامال ہورہے ہیں ۔ ان کےلئے تو ترقی کی آندھی آگئی ہے لیکن دوسری جانب ملک میں کروڑوں نوجوانوں کا روزگار چھینا جارہا ہے ۔ لاکھوں چھوٹی صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ کسانوںکی حالت تو ملک دیکھ ہی رہا ہے ۔
کے افکار وخیالات ہی پارٹی کی روح ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here