دوہزار تیس تک تمام بچوں، نوجوانوں کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کا عزم

0
6

نئی دہلی: اقوام متحدہ کی قیادت میں دنیا کے اہم پالیسی سازوں نے 2030 تک تمام اسکول اور کمیونٹی کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ان پالسی سازوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جمعرات کو ہوئے ایک اجلاس میں دنیا کے ساڑھے تین ارب بچوں اور نوجوانوں کو عالمی سطح کے ڈیجیٹل وسائل، فاصلاتی تعلیم اور ہنر کے ذریعے معیاری تعلیم پہنچنانے کا عزم کیا ہے۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گٹریس، روانڈہ جمہوریہ کے صدر پال کاگمے، کینیا جمہوریہ کے صدر اور ای این گلوبل چیمپین فار دی ینگ پیپلس ایجنڈہ اوہورو کینیاٹا، ترینیدادا اور ٹوبیگو کے صدر پااولا مے۔وی، یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ہینریٹا فور، عالمی تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گارڈن براؤن، عالمی بینک کے صدر دیوڈ ملپاس، یونیلیور کے سی ای او ایلن جوپ، آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا، مائیکرو سافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ اور نوجوانوں کے لیے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ایلچی جےتھاما وکرمنائکے نے حصہ لیا۔انہوں نے نوجوانوں کے لیے سیکھنے اور روزگار کے امکانات کو روشن اور بہتر بنانے کے لیے فوری کاروائی، حل اور سرمایہ کاری کی اپیل کی ہے۔
مسٹر گٹریس نے اپنے خطاب میں شرکاء سے کہا،’ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل لرننگ اور ٹیرننگ میں وسائل کی سرمایہ کاری، سماجی ہم آہنگی قائم رکھنے اور انسانی وسائل اور معاشی ترقی میں خلل ڈالنے والی نا ہمواریوں، نا برابریوں کو کم کرنے کے لیے ایک لازمی سرمایہ کاری ہے لیکن یہ سرمایہ کاری اوپر سے نیچے نہیں ہو سکتی۔ فیصلہ کرنے کی طاقت کے ساتھ نوجوانوں کو خود سب سے آگے ہونا چاہیے۔ ان کی اختراعی صلاحیت، انرجی اور مسئلے کو سلجھانے کے ہنر کو دنیا کی سب سے بڑے چیلنجز کے ساتھ مربوط کرنا چاہیے‘۔
یونیسکو کے جدید ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کووِڈ۔19 کی وبا کے سبب تقریباً ایک ارب طلبہ اور نوجوان اسکول اور یونیورسٹی بند ہونے سے متاثر ہیں۔ حال ہی میں یونیسیف کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر تین میں سے کم از کم ایک اسکولی بچہ فاصلاتی تعلیم حاصل کرنے میں اس وقت نا اہل تھا جب ان کے اسکول بند ہو گئے تھے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک عدم رسائی کو اجاگر کرتا ہے۔یونیسیف کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر ہینریٹا فور نے کہا، وبا سے قبل بھی لاکھوں بچے، نوجوان اعلیٰ تعلیم اور ٹریننگ کے مواقع کی کمی محسوس کر رہے تھے کیونکہ ان کے پاس انٹرنیٹ کی پہنچ نہیں تھی۔ اب کووِڈ۔19 نے حالات کو بے حد ابتر بنا دیا ہے‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here