سُشانت کی خودکشی کے معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

0
8

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بالی وڈ اداکار سُشانت سنگھ راجپورت کی خود کشی کے معاملے میں اداکارہ ریا چکرورتی اور دیگر کی عرضیوں پر منگل کے روز فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔
جسٹس رشیکیش رائے نے ریا چکرورتی اور سُشانت کے والد کے کے سنگھ، مرکزی حکومت اور بہار حکومت اور مہاراشٹر حکومت کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ ان سبھی کی جانب سے علیٰ الترتیب وکلاء شیام دیوان، وکاس سنگھ، سالسٹر جنرل تشار مہتا، منندر سنگھ اور ابھیشیک منو سنگھوی پیش ہوئے۔
سپریم کورٹ اس بات پر فیصلہ سنائے گا کہ بہار میں دائر مقدمے کو مہاراشٹر منتقل کیا جائے یا نہیں اور مقدمے میں سی بی آئی کی تفتیش جاری رہے گی اور مہاراشٹر پولیس اس کا ذمہ سنبھالے گی۔
قبل ازیں شنوائی کی شروعات میں ریا کے وکیل شیام دیوان نے دلیل دی تھی کہ سی بی آئی تفتیش بغیر ریاست کے منظوری کے شروع نہیں ہو سکتی اور اس معاملے میں تفتیش کرنے والی پہلی ریاست مہاراشٹر ہے لہٰذا مہاراشٹر حکومت کی منظوری کے بغیر سی بی آئی تفتیش نہیں ہو سکتی۔مسٹر منندر سنگھ نے کہا کہ اگر سُشانت کے بینک کھاتے سے 15 کروڑ روپیے غائب ہوئے ہیں تو سُشانت کے والد کو پٹنہ میں رپورٹ درج کروانے کا حق تھا۔ ممبئی پولیس نے محض میڈیا کو دکھانے کے لیے تفتیش کا دکھاوا کیا۔ حقیقت میں کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔
مہاراشٹر کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے ایک رکنی بینچ کی جانب سے کسی معاملے کو سی بی آئی کو سونپنے کے لیے شنوائی کرنے کے دائرہ اختیارات پر سوال کھڑے کیے۔ انہوں نے اس معاملے میں میڈیا ٹرائل کی بھی دلیل دی۔سُشانت کے والد کے وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ میڈیا میں کیا کیا رپورٹ ہو رہا ہے، میں انھیں یہاں نہیں بتانا چاہتا۔ لیکن کچھ میڈیا رپورٹ میں تو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے بیٹے کا نام بھی آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سُشانت کو اہل خانہ سے دور کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا،’سُشانت کے والد نے بار بار پوچھا کہ میرے بیٹے کا کیا علاج ہو رہا ہے؟ مجھے وہاں آنے دو لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ اس معاملے میں کئی پہلو تفتیش طلب ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ سُشانت کے گلے پر بیلٹ کے نشان تھے۔ سُشانت کے جسم کو کسی نے پنکھے سے لٹکا ہوا نہیں دیکھا۔ سُشانت کے پیسے کے سلسلے دھوکہ دہی اور مجرمانہ اعتماد شکنی پٹنہ میں ہوئی تھی لہٰذا ایف آئی آر پٹنہ میں درج کروائی گئی ہے۔ شنوائی پوری ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here