دوسروں کے بھروسے خوداعتمادی میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا: راج ناتھ

0
7

نئی دہلی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ’خودکفیل ہندوستان مہم‘ کو خوداعتمادی بڑھانے کا ویژن قرار دیتے ہوئے آج کہا ہے کہ دوسروں کے بھروسے رہ کر کبھی کبھی خوداعتمادی نہیں بڑھائی جاسکتی۔مسٹر راج ناتھ سنگھ نے یہاں محکمہ دفاعی پیداوار، پبلک سیکٹر کی دفاعی آلات اورآرڈی ننس فیکٹریوں کے ذریعہ شروع کئے جارہے خودکفیل ہفتہ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ان سرگرمیوں سے دفاعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ’’وزیراعظم نریندر مودی کا ’خودکفیل ہندوستانی مشن‘ کا ویژن اس وبا کے مشکل وقت میں، نہ صرف معاشی ترقی کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہمارے خوداعتمادی میں اضافہ کرنے کا ویژن ہے۔ دوسرے کے بھروسے رہ کر اپنی خوداعتمادی نہیں بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس کے لئے خود کا خوداعتماد ہونا ہی ایک راستہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی نے اس کے لئے پانچ طریقے بتائے ہیں۔ خواہش، کوآرڈی نیشن، سرمایہ کاری، ڈھانچہ جاتی سہولت اور انوویشن کا راستہ بتایا ہے۔ دفاعی شعبہ میں خودکفیل ہونا صرف دفاع ہی نہیں بلکہ شہری سماج کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے سبھی سازوسامان ملک میں ہی بنانے میں اہل ہیں تو سرمایہ کا ایک بڑا حصہ بچاسکتے ہیں جس کا استعمال دفاعی صنعت سے جڑی تقریبا 7,000 چھوٹی یونٹوں کو بڑھانے میں کیا جاسکتا ہے۔مسٹر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’ہم مقامی مینوفیکچرنگ اور انسانی اہلیت کو بڑھاسکتے ہیں جس سے گھریلو دفاعی صنعت اور تیز ہوجائے گی۔ ساتھ ہی ان سے جڑی چھوٹی یونٹوں، اسٹارٹ اپ اورتحقیق کو بھی بڑھاوا ملے گا اور ان سے جڑے لاکھوں خاندان کو طرح طرح کے فائدے بھی ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے وزارت نے پہلی مرتبہ ایسے 101 چیزوں کی فہرست بنائی ہے جن کی درآمد نہیں کی جائے گی۔ اس میں صرف چھوٹی اشیاء ہی نہیں بلکہ اعلی اور اہم ٹکنالوجی والے ہتھیارکے نظام بھی شامل ہے۔ اس کی توسیع کی جائے گی جس سے ہم درآمد پر روک لگا کر بڑی رقم کی بچت کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبہ کے آلات اور اسلحہ کی فیکٹری ہماری فوجیوں کے پیچھے کام کرنے والی طاقت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان یونٹوں نے کورونا وبا کے دوران بھی مختلف طرح سے اپنی خدمات پیش کی ہیں جسے بھلایا نہیں جاسکتا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ’’خودکفیل ہونے کا مطلب کبھی بھی خود کو دنیا سے الگ کرنا نہیں ہوتا ہے۔ مجھے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی جی کی ایک بات یاد آتی ہے۔ انہوں نے سودیسی سے متعلق کہا تھا کہ کہ کشتی چلانے کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پانی اتنا ہوجائے جس میں کشتی ڈوب جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ملک، دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے اپنی ایک مخصوص شناخت بنائے رکھنے میں کامیاب ہوگی۔‘‘
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ خودکفیل ہفتہ کے دوران کچھ ایسے اقدامات کئے جائیں گے جن سے ملک کو انڈیجائزیشن، دفاعی ڈھانچہ جاتی شعبہ میں سرمایہ کاری اور دفاعی منوفیکچرنگ اہلیت میں توسیع کرنے میں مدد ملے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here