آزاد عدلیہ ہمارے جمہوری نظام کے اہم ستون ہیں

0
3

نئی دہلی/پورٹ لوئی: وزیراعظم نریندر مودی نے چین کا نام لئے بغیر اس کی قرض ڈپلومیسی پر حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ ’ترقیاتی پارٹنرشپ‘ کے نام پر ممالک کو ’ماتحت شراکت داری‘ کے لئے مجبور کیا گیا ہے جس سے کی وجہ سے نوآبادیاتی اور سامراجی حکمرانی مضبوط ہوئی ہے اور انسانیت کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
مسٹر مودی نے جمعرات کو ایک ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ماریشس کے وزیراعظم پروندر جگناتھ کے ساتھ ہندستان کے تعاون سے پورٹ لوئی میں تیار کردہ ماریشس کی سپریم کورٹ کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر یہ تلخ تبصرہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندستان کی اس کے دوست ممالک کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری احترام پر مبنی ہے۔ یہ کسی شرط یا کسی بھی سیاست یا تجارتی مفاد سے جڑی نہیں ہوتی ہے۔اس موقع پرمسٹر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہندستان اور ماریشس کے مابین خصوصی دوستی کے فیسٹول کا دن ہے۔ پورٹ لوئی میں سپریم کورٹ کی عمارت ہمارے تعاون اور مشترکہ اقدار کی علامت ہے۔ ہندستان اور ماریشس دونوں ممالک میں آزاد عدلیہ ہمارے جمہوری نظام کے اہم ستون ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہندستان بحر ہندخطہ میں تمام کے لئے سلامتی اور ترقی کے ویزن ’ساگر‘ کے مرکز میں ماریشس ہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندستان ترقی یافتہ ہونا چاہتا ہے اور دیگر ممالک کو بھی ترقی کی ضرورتوں میں مدد کرنا چاہتا ہے۔ ترقی کے لئے ہندستان کا نقطہ نظر انسانیت پر مرکوز ہے۔ ہم انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرناچاہتے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ترقیاتی شراکت داری کے نام پر ممالک کو ماتحت شراکت داری کے لئے مجبور کیا گیا۔ اس سے نوآبادیاتی اور سامراجی حکمرانی کو تقویت ملی اور عالمی طاقتتیں طاقتور بنیں جس سے آخر کا انسانیت کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہاکہ ہندستان ترقیاتی شراکت داری احترام، تنوع، مستقبل کا خیال اور پائیدار ترقی کے اہداف کومدنظر رکھ قائم کررہا ہے۔ ہندستان کا ترقیاتی تعاون کا بنیادی اصول ہے شراکت داروں کا احترام۔ترقی کے سبق شیئر کرنا ہی ہمارا واحد ترغیب کا ذریعہ ہے۔ اسی لئے ہماری ترقیاتی پارٹنرشپ کسی طرح کی شرط یا کسی بھی سیاسی یا تجارتی مفاد سے قطعی متاثر نہیں ہوسکتی ہے۔انہو ں نے افغانستان، نیپال، گیانا، نائجر، سری لنکا اور مالدیپ میں ہندستان کے تعاون سے چلنے والے پروجیکٹوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ہندستان کو اس بات کا فخر ہے کہ اس نے نہ صرف دوست ممالک کے لئے تعاون کیا ہے بلکہ ہم نے ان کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد فراہم کی ہے۔ ہماری ترقیاتی پارٹنرشپ کا اہم حصہ تربیت اور ہنرمندی کو فروغ ہے۔ اس سے ہمارے شراکت دار ممالک کے نوجوان خودانحصار بنتے ہیں اور اپنے مستقل کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل پائیدار ترقی کا ہے۔ انسانی ضرورتوں اور توقعات ہمارے قدرتی ماحول سے ٹکراو والی نہیں ہوسکتی ہیں۔اسی لئے ہم دونوں انسانی امپاورمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ میں اعتماد رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ہم نے بین الاقوامی شمسی اتحاد اور آفت سے بچنے والے ڈھانچہ کے لئے اتحاد قائم کیا ہے۔یہ دونوں پہل جزائر ممالک کے لئے اہم ہیں اور جس طرح سے عالمی برادری نے اس کی حمایت کی ہے وہ فخر کرنے والی بات ہے۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ترقیاتی شراکت داری کے نام پر ممالک کو ماتحت شراکت داری کے لئے مجبور کیا گیا۔ اس سے نوآبادیاتی اور سامراجی حکمرانی کو تقویت ملی اور عالمی طاقتتیں طاقتور بنیں جس سے آخر کا انسانیت کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہاکہ ہندستان ترقیاتی شراکت داری احترام، تنوع، مستقبل کا خیال اور پائیدار ترقی کے اہداف کومدنظر رکھ قائم کررہا ہے۔ ہندستان کا ترقیاتی تعاون کا بنیادی اصول ہے شراکت داروں کا احترام۔ترقی کے سبق شیئر کرنا ہی ہمارا واحد ترغیب کا ذریعہ ہے۔ اسی لئے ہماری ترقیاتی پارٹنرشپ کسی طرح کی شرط یا کسی بھی سیاسی یا تجارتی مفاد سے قطعی متاثر نہیں ہوسکتی ہے۔
انہو ں نے افغانستان، نیپال، گیانا، نائجر، سری لنکا اور مالدیپ میں ہندستان کے تعاون سے چلنے والے پروجیکٹوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ہندستان کو اس بات کا فخر ہے کہ اس نے نہ صرف دوست ممالک کے لئے تعاون کیا ہے بلکہ ہم نے ان کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد فراہم کی ہے۔ ہماری ترقیاتی پارٹنرشپ کا اہم حصہ تربیت اور ہنرمندی کو فروغ ہے۔ اس سے ہمارے شراکت دار ممالک کے نوجوان خودانحصار بنتے ہیں اور اپنے مستقل کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل پائیدار ترقی کا ہے۔ انسانی ضرورتوں اور توقعات ہمارے قدرتی ماحول سے ٹکراو والی نہیں ہوسکتی ہیں۔اسی لئے ہم دونوں انسانی امپاورمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ میں اعتماد رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ہم نے بین الاقوامی شمسی اتحاد اور آفت سے بچنے والے ڈھانچہ کے لئے اتحاد قائم کیا ہے۔یہ دونوں پہل جزائر ممالک کے لئے اہم ہیں اور جس طرح سے عالمی برادری نے اس کی حمایت کی ہے وہ فخر کرنے والی بات ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here