متھرا۔ کاشی معاملہ:بظاہر مخالف کو نیاقانونی جواز فراہم کرتی جمعیۃ کی رٹ

0
21
Maulana Arshad Madni

لکھنؤ: اجودھیا میں متنازع اراضی ملکیت قضیہ میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجیو دھون کو مبینہ رقم کی اداگئی کے معاملے میں جمعتہ العلماء ہند کی پراسرار خاموشی کے بعد اب پلیسیس آف ورشپ(اسپیشل ایکٹ)1991 کی منسوخی (پس پردوہ متھرا کاشی کی مساجد پر دعوی) معاملے میں جمعیتہ کی سپریم کورٹ میں نئی عرضی نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔جمعیتہ العلماء کی جانب سے ایڈوکیٹ نے اعجاز مقبول اپنی اس عرضی میں جہاں ایکٹ پلیسیس آف ورشپ(اسپیشل ایکٹ)1991کو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیت کا امین گردانا ہے، وہیں مخالف فریق کے تمام دعوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘ان تمام کے قطع نظر اگر عرضی گذار کے تمام اعتراضات اور الزامات کو سچ تصور کرلیا جائے “تو یہ کچھ نہیں ہے سوائے تاریخ کی غلطیوں کی درستگی کا مطالبہ کرنا”(بہ الفاط دیگر مسلم سلاطین کے ذریعہ ہندو عبادگاہوں کی مبینہ مسماری اور اسے پر مسلم عباد گاہیں تعمیر کرنا)۔جمعیتہ علماء کی عرضی میں درج اس جملے سے قانونی ماہرین کو کئی قسم کی تحفظات ہیں۔ سپریم کورٹ کی وکیل رفعت آراء کے مطابق پہلے ایک ایسا معاملہ جو آئین کے کسی ایکٹ کی منسوخی کے مطالبے پر مبنی ہے اور جس میں یونین آف انڈیا کو پارٹی بنایا گیا ہے اس میں جمیعتہ کا عرضی داخل کرکے مسلم فریق کا موقف رکھنے کے لئے خود کو پارٹی بنانے کا دعوی سمجھ سے پرے ہے۔وہ کہتی ہیں کہ عرضی میں ’’ تاریخ کی غلطیوں کی درستگی ۔ ۔ ۔‘‘ والے جملے کا استعمال مخالف فریق کے لئے کئی راستے کھولتا ہے۔وہ اسے سیدھے طور پر مسلم سماج کے ذریعہ اس بات کے اقرار سے تعبیر کرسکتے ہیں کہ مسلم عبادت گاہیں ہندوعبادتگاہوں پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس طرح یہ جملہ انہیں قانونی جواز فراہم کرسکتا ہے۔اس ضمن میں سپریم کورٹ کے وکیل رضوان احمد درانی کہتے ہیں کہ جمعیتہ علماء کا یہ جملہ” یہ کچھ نہیں ہے سوائے تاریخ کی غلطیوں کی درستگی کا مطالبہ “بحث کا اہم نکتہ ہوسکتاہے اورعدالت میں بحث کو نیا موڑ دے سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس جملے کے تناظر میں یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ تاریخی غلطی کو درست کیوں نہیں کرسکتے! جب مسلم پارٹی خود اس کا اعتراف کررہی ہے”۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وکیل کے الفاظ دراصل مدعی کے الفاظ ہوتے ہیں۔ ایسے میں جمعتہ العلماء کو یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ آیا وہ رٹ میں وکیل اعجاز مقبول کے ذریعہ استعمال کئے گئے جملے سے متفق ہے یا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ توقع ہے کہ یہ پروفیشنل غلطی ہی ہوگی او اس میں کوئی دوسرا اینگل نہیں ہوگا اور اسے جلد از جلد صحیح کرلیا جائے گا۔ویشو بھدر پجاری پروہت مہا سنگھ نے آئین ہند کے پلیسیس آف ورشپ(اسپیشل ایکٹ)1991 کو منسوخ کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے جس میں اُس نے یونین آف انڈیا کو پارٹی بنایا ہے۔
عرضی گذار نے آئین کے مذکورہ بالا خصوصی ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ کرتےہوئے دعوی کیا ہے کہ آئین ہند کا یہ آرٹیکل ہندووں کی اُن پرانی عبادت گاہوں کے احیا کے دعوے کی راہ میں رکاوٹ ہے جو مبینہ طور سے مسلم حکمرانوں کے ذریعہ مسلم عبادت گاہوں میں تبدیل کر دی گئی تھیں۔ (اس ضمن میں بظاہران کی بنیادی توجہ وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کے شاہی عیدگاہ مسجد کی طرف ہے)جمعیتہ العلماء ہند نے اس معاملے میں جس میں یونین آف انڈیا کو پارٹی بنایا گیا ہے، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے اس معاملے میں جمعیتہ العلما کو بھی مسلم سماج کا موقف رکھنے کے لئے فریق بنانےکا دعوی کیا ہے۔عرضی میں عدالت عظمی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں ابھی کوئی نوٹس جاری نہ کرے، بصورت دیگر مسلم سماج میں اپنی عبادت گاہوں کے حفاظت کے حوالے سے سخت تحفظات پیدا ہوں گے اور اس سے ملک کے سیکولر زم کو بھی زک پہنچے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here