بابری مسجد کیس: اڈوانی اور جوشی کا بیان درج کیا جائے گا

0
13

لکھنؤ: بابری مسجد انہدام کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو سینئر لیڈروں کے بیانات رواں ہفتے سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں درج کیے جائیں گے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی 24 جولائی کو جبکہ سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی 23 جولائی کو بابری مسجد انہدام کیس کی سماعت کرنے والی سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے سامنے اپنا بیان درج کرائیں گے۔سرکاری ذرائع نے پیر کے روز یہاں بتایا کہ بابری مسجد انہدام کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو سینئر لیڈروں کے بیانات رواں ہفتے سی بی آئي عدالت میں درج کیے جائيں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 جولائی کو مسٹر ایل کے اڈوانی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خصوصی سی بی آئی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے، جبکہ 23 جولائی کو پارٹی کے دوسرے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ دونوں رہنما ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دہلی سے خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش ہوں گے اور اپنے بیانات ریکارڈ کرائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ 92 سالہ ایل کے اڈوانی ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 313 کے تحت جج کے سامنے اپنا بیان درج کرائیں گے۔ خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج ایس کے یادو نے اس معاملے میں دونوں لیڈروں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لئے تاریخ طے کردی ہے۔بابری مسجد انہدام کے ملزمان میں سے ایک ملزم رام چندر کھتری بھی منگل کے روز سوی پت جیل سے اپنا بیان ریکارڈ کرائے گا۔ فی الحال، وہ سونی پت جیل میں بند ہے۔مجموعی طور پر بابری مسجد انہدام کیس کے 32 ملزمان میں سے بیشتر نے اپنے بیانات قلمبند کروائے ہیں۔ اب تک بی جے پی کے مذکورہ سیاسی لیڈروں سمیت صرف 6 افراد بچ گئے ہیں۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئي عدالت سے 18 اپریل تک اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے لیے کہا تھا ، لیکن لاک ڈاؤن کے سبب جج نے ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے کی درخواست کی تھی۔ خصوصی جج کی استدعا پر سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت 31 اگست تک مکمل کرنے کے لئے آخری تاریخ میں توسیع کردی ہے۔
واضح رہے کہ 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا تھانہ کے ایس ایچ او اور رام جنم بھومی پولس چوکی کے انچارج کے ذریعہ کل 48 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جس میں سی بی-سی آئی ڈی نے تحقیقات کرکے اس کیس کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے حوالے کردیا تھا۔ بعدازاں 31 مئی 2017 کو سی بی آئی نے 49 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی، جن میں سے 17 ملزمان کی موت ہوگئی ہے۔اس معاملے میں 2020 کے آخر تک عدالت کا فیصلہ متوقع ہے۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے خصوصی جج کو نو مہینے میں اپنا فیصلہ دینے کی ہدایت دی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here