چین مسلمانوں پر ظلم کی نئی تاریخ مرتب کر رہا ہے

0
4

واشنگٹن: چین میں اسلام کی آمد کی جہاں ایک تاریخ ہے وہیں اب وہاں مسلمانوں پر ظلم کی نئی تاریخ مرتب کی جارہی جسے اکیسویں صدی کی اب تک کی سب سے بڑی نسل کشی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ چینی صوبہ سنکیانگ میں کوئی 10 لاکھ مسلمان سخت سکیورٹی والے جیلوں میں بے یارو مددگار پڑے ہیں۔
چین کے سنکیانگ علاقے میں یہ ظلم مبینہ طور پر انتہا پر ہے جہاں مسلم عورتوں کی یا تو نس بندی کی جارہی ہے یا پھر ان کے جسم مانع حمل آلات کی پیوند کاری کی جارہی ہے تاکہ وہ حاملہ نہ ہو سکیں۔
ایسی زیادتیوں کے امور کے بعض ماہرین نے اسے مقامی مسلم آبادی کی ’نسل کُشی‘ قرار دیا ہے۔ اس جبر اور زیادتی سے متعلق گزشتہ ماہ ایک رپورٹ سامنے آنے کے بعد اقوامِ متحدہ سے جہاں مبینہ واقعات کی چھان بین کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہیں امریکہ نے سنکیانگ میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے چین کے چار اعلی حکام بشمول ایک پولٹ بیورو رکن پر پابندیاں لگادی ہیں۔ چین اس امریکی اقدام پر تلملا اٹھا ہے اور اسے داخلی امور میں مداخلت اور چین امریکہ تعلقات کے حق میں مضرت رساں قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ چین اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا استدلال ہے کہ متذکرہ کیمپوں میں شدت پسندی سے نپٹنے کیلئے پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین پر سنکیانگ میں مسلمانوں کے عقیدے اور ان کی تہذیب کو مٹانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ متذکرہ خطے کے لوگوں کے خوفناک اور منظم چینی استحصال اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ایغور و قزاخی نسل کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی گروہوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف امریکہ لازمی طور پرقدم اٹھئے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر شین، زو، ہولیو اور وینگ پر ویزا کی مزید پابندیاں لگانے کا اعلان کرتے ہیں تاکہ وہ اور ان کے گھر والے امریکہ کا سفر نہ کر سکیں۔امریکہ نے یہ پابندیاں ‘گلوبل میگنسکی ایکٹ’ کے تحت لگائی ہیں۔ اس قانون کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیا کرنیوالوں کو خواہ ان کا تعلق دنیا کے کسی بھی ملک یا کطے سے ہو، زد میں لے کر امریکہ میں ان کے اثاثہ جات منجمد کر دیئے جاتے ہیں اورایسے لوگو ں کو امریکہ میں داخل ہونے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ مزید بر آن کوئی امریکی ان لوگون کے ساتھ کسی طرح کے لین دین کے معاملات نہیں کر سکتا۔
وائٹ ہاوس کے ایک ذمہ دار کے مطابق امریکہ نے اقوام عالم پر بھی زور دیا ہے کہ سنکیانگ میں اقلیتوں کے خلاف چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے حراست، جبری مشقت، مذہبی تشدد، زبردستی اسقاط حمل اور اسٹرلائزیشن جیسے جبر کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔
چین کے سینیئر حکام پر پابندی عائد کرنے کا امریکی فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کووڈ ۱۹ کی وبا، انسانی حقوق کی پامالیوں، ہانگ کانگ کے نزاع اور تجارتی امور پر دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی مسلسل اضافہ پذیر ہے۔
چین میں مسلمانوں پر ظلم اور زیادتی کے خلاف کارروائی کا یہ نیا مر حلہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو مزید کشیدہ بنا سکتا ہے۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ بے نقاب ہونے کی کوفت میں چین سخت جوابی اقدام بھی کر سکتا ہے جو امن عالم کے حق میں اور بھی افسوسناک ہوگا۔
چین کے جن اعلی افسروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں ان میں اقلیتوں کے خلاف مبینہ چینی پالیسی سازپولٹ بیورو رکن شین کوانگو، پارٹی کے ایک سابق معاون سیکرٹری زوہیلم، سنکیانگ کے تحفظ عامہ کے ڈائریکٹر اور کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری وینگ منگ شون اور بیورو کے سابق پارٹی سیکرٹری ہولیو جون شامل ہیں۔ ان عہدہ داران میں شین کوانگو امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے اب تک کے اعلی ترین چینی عہدیدار ہیں۔واضح رہے کہ ایغور مسلمان ترک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سنکیانگ کی ایغور آبادی کا تناسب 45 فیصد ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here