کورونا کا بدترین مرحلہ آنا باقی

انسانیت کو اس سے لڑنے اور اسے شکست دینے کے لئے متحد ہوکر کھڑا ہونا چاہئے: ڈبلو ایچ او

0
11

جنیوا:ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے وارننگ دی ہے کہ دنیا بھر میں کوویڈ۔ 19 انفیکشن کا بدترین دور آنا باقی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریسس نے کہا ’’انفیکشن کا قہر تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہم واضح طور پر اس وبا کی انتہا پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ عالمی سطح پر اموات کی تعداد کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے لیکن حقیقت میں صرف چند ممالک نے مرنے والوں کی تعداد کم کرنے میں اہم پیشرفت کی ہے جبکہ دوسرے ممالک میں اموات میں ابھی بھی اضافہ ہورہا ہے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نے منگل کے روز ڈبلیو ایچ او کی باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہفتے کے آخر میں دنیا بھر میں کورونا انفیکشن کے 400،000 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔ اب تک دنیا بھر میں کورونا کے 1.14 کروڑ معاملات سامنے آئے ہیں اور 5.35 لاکھ سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا ’’ہم اس بیماری کے ابتدائی مرحلے سے ہی کہتے آرہے ہیں کہ یہ وائرس بہت خطرناک ہے اور ہم نے اس وائرس کو ابتداء سے ہی لوگوںکا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے۔ اس کے دو خطرناک امتزاج ہیں، اول یہ کہ یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے موت ہوسکتی ہے، اسی لئے ہم فکرمند تھے اور دنیا کو مسلسل احتیاط برتنے کے لئے کہہ رہے تھے۔
کورونا وائرس کو انسانیت کا دشمن قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ انسانیت کو اس سے لڑنے اور اسے شکست دینے کے لئے متحد ہوکر کھڑا ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک صدی میں ایک بار ہوتا ہے۔ یہ ایک خطرناک وائرس ہے۔سن 1918 سے اس طرح کی کوئی وبا نہیں دیکھی گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او ایمرجنسی ہیلتھ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل ریان نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر اموات کی تعداد پھر بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے جون میں انفیکشن متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہے حالانکہ ابھی تک اموات کے اعداد و شمار میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس میں وقت لگتا ہے اور وقفہ کا مرحلہ ہوتا ہے۔ ہم ہلاکتوں کے اعداد و شمار پھر بڑھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ڈاکٹر ریان نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن مئی کے وسط سے اموات مستحکم ہیں۔یہ کچھ وقفہ عنصر کی وجہ سے ہوسکتا ہے لیکن اگر اموات کے اعداد و شمار پھر سے بڑھنے لگے تو حیران نہیں ہونا چاہئے۔ حالانکہ اس کی دیگر وجوہ ہوسکتی ہیں ۔ ڈاکٹروں اور نرسوں نے مریضوں کی دیکھ بھال کرنا سیکھ لیا ہے اور ہوسکتا ہے اس کی وجہ سے اموات میں کمی آئی ہو‘‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here