ایف بی آئی نے چین پر جاسوسی کا الزام لگایا

0
7

واشنگٹن: امریکی خفیہ ایجنسی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائرکٹر کرس رے نے امریکہ میں جاسوسی کرنے کے لئے چین پر تنقید کرتے ہوئے اسے ملک کے مستقبل کے لئے طویل مدتی خطرہ قرار دیا۔مسٹر رے نے ہاؤسٹن انسٹی ٹیوٹ میں ایک ویڈیو ایونٹ کے دوران بتایا کہ ’’ہمارے ملک کی اطلاعات اور املاک دانش اور ہماری معاشی زندگی کے لئے سب سے بڑی طویل مدتی خطرہ چین کی خفیہ اورمعاشی جاسوسی ہے۔ یہ ہماری معاشی اورقومی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ امریکہ اب اس نقطہ پر پہنچ گیا ہے جہاں ایف بی آئی روزانہ ہر دس گھنٹے میں چینی جاسوسی سے متعلق نئے معاملے کھول رہی ہے۔ڈائرکٹر نے بتایا کہ ’’فی الحال پورے ملک میں تقریبا 5,000 سرگرم جاسوس مخالف معاملوں میں سے تقریبا آدھے چین سے متعلق ہیں اور اس وقت، چین ضروری کورونا وائرس (کووڈ۔19) تحقیقی کام کرنے والے امریکی ہیلتھ تنظیموں، دوا کمپنیوں اور تعلیمی اداروں سے معاہدہ کرنے کےلئے کام کررہا ہے۔‘‘چینی معاشی جاسوسی معاملے پر بات کرتے ہوئے ایف بی آئی ڈائرکٹر نےبتایا کہ ’’اپنے اہداف کو حاصل کرنے اور امریکہ سے بہترین ہونے کے لئے چین یہ مانتا ہےکہ اسے جدید تکنالوجی میں آگے آنے کی ضرورت ہے۔ لیکن تکلیف کی بات یہ ہے کہ انوویشن کے مشکل کام میں الجھنے کے بجائے چینی اکثر امریکی املاک دانش کی چوری کرتے ہیں اور پھر اس کا استعمال بہت ساری امریکی کمپنیوں کے خلاف مقابلے کرنے کے لئے کرتا ہے۔ اس طرح چین دو مرتبہ دھوکہ دے چکا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ’’وہ (چین) فوجی آلات سے لے کر ونڈ ٹربائنز تک اور چاول اور مکئی کے بیچوں تک سبھی پر پھر سے تحقیق کو انجام دینے پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں۔‘‘ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے تناؤ کے درمیان ایف بی آئی ڈائرکٹر کا یہ بیان آیا ہے۔ اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اور بڑھنے کی امید ہے۔‘‘واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کورونا وائرس وبا کے درمیان چین کی سب سے سخت تنقید کررہے ہیں اور اس عالمی وبا کے پھیلنے کے لئے مسلسل چین کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ اس درمیان وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پیر کو بتایا کہ امریکہ مشہور ٹک ٹاک سمیت چین کے سبھی سوشل میڈیا ایپ پر پابندی عائد کرنے پر غور کررہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here