کووڈ۔19کے ذریعہ کا پتہ لگانے کیلئے ڈبلیو ایچ او کی ٹیم چین جائے گی

0
11

جنیوا:کووڈ۔19کی وبا کے بڑھتے قہر کے درمیان عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے کہاکہ وہ اس کے وائرس کے ذریعہ کا پتہ لگانے کے لئے اگلے ہفتہ ماہرین کی ایک ٹیم چین بھیجے گی۔عالمی صحت تنظیم کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر تیدروس گوبریسس نے کووڈ۔19پر باقاعدہ پریس سے بات چیت کے دوران پیر کو کہا کہ ڈبلیو ایچ او ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ وائرس کے ذریعہ کی معلومات نہایت اہم ہے۔ ہم وائرس سے اسی وقت بہتر طریقہ سے لڑسکتے ہیں جب ہمیں اس کے بارے میں سب کچھ پتہ ہو، یہ بھی کہ یہ کیسے شروع ہوا۔ ہم اس کی تیاری کے لئے اگلے ہفتہ ایک ٹیم کو چین بھیج رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم ہوسکے گا کہ اس وائرس کی شروعات کیسے ہوئی اور مستقبل کے لئے ہم کیسے تیاری کرسکتے ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وائرس کافی جارحانہ انداز میں پھیل رہا ہے۔ کسی ٹیکہ یا علاج کی دریافت ہونے تک انتظار کرنے کی بجائے ہم رابطہ کا پتہ لگاکر، سماجی دوری وغیر جیسے اقدامات سے اس کے پھیلاو کو روک سکتے ہیں۔عالمی صحت تنظیم کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر تیدروس گوبریسس نے کہا کہ ایک کروڑ سے زیادہ معاملات کی تصدیق ہوچکی ہے اور دس لاکھ سے زیادہ لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ ہمیں جن اقدامات کے بارے میں پتہ ہے انہیں اختیار کرکے اسے روکاجاسکتا تھا۔ ٹیکہ اور علاج ان اقدامات کے اوپر اپنا تعاون دیں گے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہاکہ اگر حکومتیں پوری سنجیدگی سے اپنا کام کرتی ہیں اور کمیونٹی سطح پر لوگ اپنا تعاون دیتے ہیں تو اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ ٹیکہ کی دریافت کے لئے ہم پوری کوشش کررہے ہیں۔ تب تک ڈبلیو ایچ او کی صلاح ہے کہ ہمیں اپنی طرف سے ان قدامات کو اپنانا چاہئے۔ کئی ممالک نے یہ دکھایا ہے کہ اس وائرس کو روکا جاسکتا ہے۔کچھ ممالک میں اقتصادی اور سماجی پابندیوں میں نرمی کے ساتھ کووڈ۔19 کے معاملات پھر سے بڑھنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیشتر لوگوں میں اب بھی انفیکشن کا خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سخت حقیقت یہ ہے کہ یہ ختم ہونے کے آس پاس بھی نہیں ہے۔ کئی ممالک نے (انفیکشن کی روک تھام میں) ترقی کی ہے لیکن عالمی سطح پر وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here