پردھان منتری غریب کلیان اناج یوجنا نومبر تک جاری رکھنے کا فیصلہ

0
19

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج پردھان منتری غریب کلیان اناج یوجنا کو نومبر تک بڑھانے کا اعلان کیا جس کے تحت غریب خاندانوں کے ہر فرد کو ہر ماہ پانچ کلو گندم یا چاول اور ایک کلو چنا مفت دیا جائے گا۔مسٹر مودی نے کورونا کی وبا کی وجہ سے ملک بھر میں مکمل تالا بندی کے کئی مرحلے کے بعد معاشی سرگرمیوں اور زندگی کو معمول پر لانے کے لیے انلاک-2 شروع ہونے سے ایک روز قبل آج قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تہوار کا موسم شروع ہونے جارہا ہے۔ اور اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کی حکومت نے غریب طبقے کے لئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پردھان منتری غریب کلیان اناج یوجنا کو نومبر تک بڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اس اسکیم کو بڑھانے پر 90 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آئے گی۔ اگر آپ پچھلے تین مہینوں کے اخراجات اس میں شامل کردیں تو یہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ کروڑ بن جاتے ہیں”۔مسٹر مودی نے کہا کہ” برسات موسم میں زیادہ تر کام بنیادی طور پر زراعت کے شعبے میں ہوتا ہے اور جولائی کے بعد تہواروں کا موسم شروع ہوجاتا ہے۔ تہواروں کا یہ وقت ضرورتوں کو بھی بڑھاتا ہے میں اخراجات میں بھی اضافہ کرتا ہے”۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے پورے ہندوستان کے لئے ایک خواب دیکھاہے۔ اب ایک قوم، ایک راشن کارڈ یعنی پورے ہندوستان کے لئے ایک راشن کارڈ کا انتظام بھی ہو رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہوگا، جو اپنا گاؤں چھوڑ کر ملازمت یا دوسری ضروریات کے لئے کہیں اور چلے جاتے ہیں اور کسی دوسری ریاست میں جاکر رہتے ہیں۔غریب کلیان اسکیم کے لئے کسانوں اور ٹیکس دہندگان کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ” آج اگر حکومت غریبوں، مسکینوں کو مفت اناج فراہم کرنے کے قابل ہے ، تو اس کا سہرا دو طبقوں کو جاتا ہے۔ ہمارے ملک کے محنتی کسان اور ہمارے ملک کے ایماندار ٹیکس دہندگان۔ آج میں ہر کسان، ہر ٹیکس دہندہ کو دل سے سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے وطن کے باشندوں سے دن رات محنت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “آنے والے وقت میں ہم اپنی کوششیں مزید تیز کریں گے۔ ہم غریب، مظلوم اور محروم ہر اس فرد کو بااختیار بنانے کے لئے مستعدی سے کام کریں گے۔ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ہم معاشی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ ہم خود انحصار ہندوستان کے لئے دن رات ایک کریں گے۔ ہم سب مقامی لوگوں کے لئے آواز بلند کریں گے۔ اس عزم کے ساتھ ہمیں 130 کروڑ لوگوں کو عزم کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے اور آگے بڑھنا ہے”۔اس سے قبل انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبا مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن بروقت اقدامات کی وجہ سے ہندوستان کی صورتحال بہت سارے ممالک کے مقابلے میں بہتر ہوئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اب ہم کورونا عالمی وبائی مرض کے خلاف لڑ تے ہوئے انلاک -2 کے ساتھ ہی ایسے موسم میں داخل ہورہے ہیں جس میں سردی ، کھانسی، بخار کے معاملات بڑھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں میں اپنے تمام ہم وطنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا خیال رکھیں”۔مسٹر مودی نے کہا کہ مکمل تالا بندی کے دوران پورے ملک کے باشندوں نے قوانین پر عمل کیا، لیکن اب حکومتوں اور لوگوں کی سطح پر انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ، “خاص طور پر کنٹنمنٹ زون پر بہت زیادہ دھیان دینا ہوگا۔ جو بھی لوگ قوانین پر عمل نہیں کررہے ہیں، ہمیں انہیں ٹوکنا ہوگا ، روکنا ہوگا اور سمجھانا بھی ہوگا۔ اب آپ نے بھی خبروں میں دیکھا ہوگا کہ ایک ملک کے وزیر اعظم پر 13 ہزار روپے کا جرمانہ اس لیے عائد کیا گیا کیونکہ انہوں نے عوامی مقام پر ماسک نہيں پہنا ہوا تھا۔ ہندوستان میں بھی مقامی ل تالا بندی کے دوران حکومت غریبوں کی مستقل مدد کرتی رہی ہے۔ پچھلے تین مہینوں میں 31 ہزار کروڑ روپئے 20 کروڑ غریب کنبوں کے جن دھن کھاتوں میں براہ راست جمع ہوچکے ہیں۔ اس وقت کے دوران 9 کروڑ سے زائد کسانوں کے بینک کھاتوں میں 18 ہزار کروڑ روپے جمع کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دیہات میں مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے وزیر اعظم غریب کلیان روزگار یوجنا تیز رفتاری سے شروع کی گئی ہے۔ حکومت اس پر 50 ہزار کروڑ خرچ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ “میں بھی سب سے گزارش کرتا ہوں، دو گز دوری کی پیروی کرتے رہیں، گمچھی، اور ماسک کا ہمیشہ استعمال کرتے رہیں، لاپرواہ نہ برتيں”۔نتظامیہ کو اسی طرح چستی کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ یہ 130 کروڑ شہریوں کی جانوں کی حفاظت کا ابھیان ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here