حضور تاج الشریعہ اور الجامعةالاشرفیة مبارک پور

0
12
Al Jamiatul Ashrafia Mubarakpur, Azamgarh U.P.
مبارک حسین مصباحی
از: مبارک حسین مصباحی
استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
یہ کوئی 1934ء  کی بات ہے کہ مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف سے جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی  کو بحیثیت خادمِ دین و سنیت مبارک پور بھیجا گیا، اس وقت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم ایک مکتب کی حیثیت رکھتا تھا، آپ نے اس مکتب کو دار العلوم اور پھر جامعہ اشرفیہ میں بدل دیا ، یہ پورا سفر پلک جھپکتے ہی نہیں ہو گیا، بلکہ اس پر کچھوچھا مقدسہ ، مارہرہ مطہرہ اور بریلی شریف اور دیگر خانقاہوں کے فیوض و برکات تھے ، آج بھی ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہیں گے۔
اس وقت ہمارا روے سخن یہ ہے کہ جانشین حضور مفتیِ اعظم ہند قاضی القضاۃ حضرت علامہ شاہ محمد اختر رضا قادری ازہری قدّس سرہ کے بھی بے پناہ فیوض و برکات رہے ۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے عقیدت مندانہ رشتے اپنے مرکز سے آج بھی ہیں ۔ حضور تاج الشریعہ قدّس سرہ کا وصال: 7, ذو قعدہ َ1439ھ مطابق 20؍ جولائی 2018ء میں ہوا۔ آپ کے وصال کی اندوہناک خبر سے ہند اور بیرون ہند صفِ ماتم بچھ گئی۔ آپ کی مقبولیت تو آپ کی حیات ہی میں شہرۂ آفاق تھی، جس شہر میں قدم رکھ دیتے تھے، اس پورے صوبے اور علاقے میں خوشبو پھیل جاتی تھی۔ آپ علوم و فنون کے بحرِ ذخار اور شعر و ادب کے منفرد المثال دبستاں تھے۔ جب آپ عربی میں تکلم فرماتے اور کوئی تحریر لکھتے تو ایسا لگتا تھا کہ عجمی نہیں بلکہ عربی ہیں۔ آپ بلا شبہہ وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت اور تقویٰ شعاری میں سرکار مفتیِ اعظم ہند کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے آپ سرپرست تھے، آپ اپنے زبان و قلم سے بارہا اس کا ذکر فرماتے تھے۔ حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہ  کا ذکر خیر بھی بڑے والہانہ انداز میں فرماتے تھے۔ حضور حافظِ ملت کے عرس کے مواقع پر بھی آپ کی آمد ہوئی ہے۔ مجلسِ شرعی جامعہ اشرفیہ کے بھی آپ سرپرست تھے ۔ فیصل بورڈ  مجلسِ شرعی کے بھی رکنِ اعلیٰ تھے، ہم نے بارہا آپ  کی مجلسِ شرعی میں  زیارت کی ہے۔ اگر مبارک پور کے قرب و جوار میں تشریف لاتے تو مبارک پور جامعہ اشرفیہ بھی جلوہ گر ہوتے تھے۔ اہلِ اشرفیہ بھی بڑی عقیدت و محبت سے آپ  اور آپ کے رفیقوں سے مسلسل رابطے میں رہتے۔ گھنٹوں  انتظار کیا جاتا، جامعہ اشرفیہ کے طلبہ لائن لگا کر نعروں کی گونج میں آپ کا خیر مقدم کرتے۔ جامعہ اشرفیہ کے اساتذۂ کرام کا ایک بڑا طبقہ آپ سے سلسلۂ بیعت کا شرف رکھتا ہے، جب کہ چند اساتذہ خلافت و اجازت کی سعادت بھی رکھتے ہیں۔ عقیدت مند تو تمام اساتذہ اور  طلبہ ہیں، اللہ تعالیٰ اس عقیدت و ارادت کی عمر دراز فرمائے۔ آمین
 *یاد آوری اور دعا گوئی کا ایک یادگار واقعہ:* 
سرِ دست ہمیں لکھنا یہ ہے کہ راقم مبارک حسین مصباحی بھی ان سے حد درجہ عقیدت و محبت رکھتا ہے۔ ان کے وصال پر ملال کے موقع پر ہم نے جامعہ اشرفیہ کے ترجمان ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور میں آٹھ صفحات پر مشتمل اداریہ بھی تحریر کیا تھا اور اس شمارے میں جامعہ اشرفیہ کے بزرگوں اور دیگر اساطینِ اہلِ سنت کی نگارشات بھی شائع کی تھیں  اور بفضلہِ تعالیٰ یہ نورانی سلسلہ متعدد ماہ تک جاری رہا۔ اس میں ہم نےبہت کچھ اپنی عقیدت کیشیوں کی داستان سپردِ قلم کی تھی۔ اس وقت ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ چند برس قبل بریلی شریف سے اپنے وطن شاہ آباد ضلع رام پور جاتے ہوئے ہمارا انتہائی خطرناک ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا، خیر یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے۔ ہوا یہ کہ دو تین ماہ کے بعد ہم جامعہ اشرفیہ مبارک پور حاضر ہو گئے، بزرگوں اور احباب نے دعائیں دیتے ہوئے خوشیوں کا اظہار فرمایا۔
محبِ گرامی وقار حضرت مولانا محمد طفیل احمد مصباحی سابق نائب مدیر  ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور بریلی شریف تشریف لے گئے، نماز و فاتحہ سے فراغت کے بعد برادرِ گرامی حضرت مولانا مفتی عاشق حسین کشمیری دام ظلہ العالی سے ملاقات ہو گئی، وہ بڑے تپاک سے ملے، انھوں نے فرمایا: آپ پہلے کھانا کھا لیجیے، جب کھانے سے فارغ ہو گئے تو انھوں نے فرمایا کہ اب آپ آرام کر لیجیے۔ حضرت مولانا محمد طفیل احمد مصباحی نے دریافت کیا کہ آپ کیا کریں گے؟ انھوں نے جواب عنایت فرمایا کہ میں حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کے پاس بیٹھوں گا، وہاں ”فتاویٰ رضویہ“ کا عربی ترجمہ ہو رہا ہے۔ آپ نے بھی فرمایا کہ حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم القدسیہ سے تو ہمیں بھی شرفِ نیاز حاصل ہے کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ بھی آئیے۔
 جب حضرت مولانا محمد طفیل احمد مصباحی حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم  العالیہ کی بارگاہ میں پہنچے تو دست بوسی کی، تو حضرت نے مولانا عاشق حسین کشمیری سے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ تو انھوں نے بتایا کہ یہ ماہ نامہ اشرفیہ کے نائب مدیر ہیں، تو حضرت نے ان کی خیریت دریافت فرمائی اور کھانے کے بارے میں اسی وقت سوال فرمایا کہ کیا آپ نے کھانا کھا لیا؟ جواب دیا، جی حضور۔اس کے بعد معلوم کیا، حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی کیسے ہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ الحمد للہ وہ اب بخیر و عافیت ہیں۔ حضرت نے سن کر خوشی کا اظہار فرمایا اور اسی کے ساتھ اپنی شانِ کریمانہ کے مطابق دعا بھی فرمائی، بہر حال یہ ان کا کرم تھا اور بفضلہٖ تعالیٰ آج بھی ہے ۔ حضرت مولانا محمد طفیل احمد مصباحی نے فرمایا کہ حضرت مفتی عاشق حسین کشمیری ابھی اردو کا جملہ پورا بھی نہیں فرماتے تھے اور حضور اسی وقت عربی جملہ ارشاد فرما دیتےتھے۔
اس گفتگو اور کرم فرمائی کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت اپنے غلاموں کو یاد رکھتے تھے اور مسلسل دعاؤں سے نوازتے تھے ۔ یہ بھی واضح ہو گیا کہ حضور تاج الشریعہ قدّس سرہ کو عربی زبان پر حیرت انگیز دسترس حاصل تھی۔
 *خلافت و اجازت اور سندِ حدیث:* 
اب ہم یہ لکھنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ حضور تاج الشریعہ قدّس سرہ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدّس سرہ کے عرس کے موقع پر اسٹیج پر ہمیں سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی خلافت و اجازت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔ یہ نوازشِ خسروانہ َ25؍ ربیع الثانی 1422ھ/ 17؍ جولائی 2001ء کی ہے۔ سند الاجازة میں یہ جملے بھی ہیں:
”اما بعد  فقد التمس  منی عزیزی المولوی مبارک حسین المصباحی الرَّضۡوی إجازۃ السلسلۃ العلیۃ العالیۃ القادریۃ البرکاتیۃ الرضویۃ واجازۃ الأوفاق والأعمال والأذکار والأشغال فاجزتہ علی برکۃ اللہ تعالیٰ ذی الجلال ، ثم علیٰ برکۃ رسولہ الأعلیٰ صاحب الجمال ، جل جلالہ و عم نوالہ علیہ الصلوٰۃ والتحیۃ والثناء……..الخ.
آخر میں حضور تاج الشریعہ قدّس سرہ کے دستخط شریف بھی ہیں اور تاریخ سند بھی۔ اسی کے ساتھ حضور نے حدیث رسول کی اجازت بھی عطا فرمائی اور بعد میں ”سند الحدیث“ بھی، یہ آپ کا فیضانِ کرم تھا ورنہ من آنم کہ من دانم۔
 ہم نے جنوری َ1995ء میں جو اداریہ تحریر کیا تھا اسے ہم من و عن ذیل میں نقل کرتے ہیں۔
 *مبارک پور کے فقہی سیمینار میں شناختی کارڈ کے متعلق ایک فکر انگیز شرعی فیصلہ* 
دفعِ ضرر اور اپنے شرعی حقوق کے تحفظ کے لیے فوٹو کے سلسلے میں حکم رخصت پر عمل کیا جائے 25,دسمبر
1994ء کو الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی عالی شان عمارت میں عصرِ حاضر کے جدید مسائل پر دوسرے سیمینار کی پانچویں نشست حضرت علامہ ارشد القادری کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ ملک کے طول و عرض سے تشریف لانے والے پچاس سے زائد فقہاے کرام سیمینار میں شریک ہوئے۔ اس سیمینار کا انعقاد مجلس شرعی نے کیا تھا جو الجامعۃ الاشرفیہ کا ایک اہم تحقیقی شعبہ ہے۔
اکابر مشاہیر حضرات میں سے   تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خاں ازہری بریلوی ، مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی، علامہ ارشد القادری، علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری، علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی، مفتی  جلال الدین امجدی، مفتی محمد نظام الدین مصباحی، مولانا بہاء المصطفیٰ قادری، مولانا محمد احمد مصباحی، مولانا معراج القادری اور مفتی شبیر حسن رضوی کے اسماے گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
نشست کے خاتمے پر صدر اجلاس علامہ ارشد القادری نے وقت کے ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف شرعی ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ الیکشن کے سلسلے میں شناختی کارڈ کا مسئلہ اس وقت مسلمانان ہند کے لیے سخت اضطراب کا سبب بنا ہوا ہے۔ ملت کے کروڑوں افراد جو شریعت اسلامی کے حکم کے مطابق تصویر کھنچوانے کو حرام و گناہ سمجھتے ہیں، وہ سخت کشمکش میں مبتلا ہیں کہ کیا کریں۔
اس لیے مفتیانِ شریعت کے اس موقر ایوان سے مودبانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس مسئلے کے ہر پہلو کا تفصیلی جائزہ لے کر شناختی کارڈ کے متعلق شریعتِ اسلامی کی روشنی میں کوئی متوازن فیصلہ کریں کہ مسلمانانِ ہند کو اس موقع پر کیا کرنا چاہیے۔
صدرِ جلسہ کی طرف سے پیش ہونے والی اس تحریک کے جواب میں کافی دیر تک حاضر مفتیانِ کرام کے درمیان بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ اخیر میں فیصلہ کن انداز میں حضرت علامہ شاہ اختر رضا خان ازہری ،حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی اور حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے ارشاد فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تصویر کھنچوانا از روے شرع حرام اور گناہ ہے، اس بنیاد پر کسی مسلمان کو تصویر کھنچوانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 
لیکن اس مسئلہ کا دوسرا رخ یہ ہے جو ہرگز نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے کہ شناختی کارڈ صرف حق رائے دہندگی  ہی کا پروانہ نہیں ہے بلکہ ہندوستانی شہریت و قومیت کے ثبوت کے لیے وہ ایک سرکاری دستاویز بھی ہے۔ اگر تصویر کی وجہ سے اس سرکاری دستاویز کو ہم نے حاصل کرنے سے انکار کر دیا تو مستقبل میں یہ ہمارے لیے سخت مہلکات و مشکلات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اس ملک کے شہری حقوق سے ہم یکلخت محروم بھی کیے جا سکتے ہیں، بلکہ غیر ملکی قرار دے کر ہم ملک سے نکالے بھی جا سکتے ہیں۔
اس لیے اس طرح کے سنگین حالات میں دفعِ ضرر کے لیے شریعت نے رخصت پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے، ہم اس کی روشنی میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے جان و مال کے تحفظ اور اپنے شہری حقوق کو ضائع ہونے سے بچانے کے سلسلے میں جب حکومت کے مطالبے کے بعد شناختی کارڈ کے لیے تصویر کھنچوانا بالکل ناگزیر ہو جائے تو ہمیں رخصت پر عمل کرتے ہوئے اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن واضح رہے کہ تصویر کھنچوانے کے سلسلے میں رخصت کا یہ حکم صرف شناختی کارڈ تک محدود رہے گا۔
اکابرین کے اظہار خیال کے بعد سیمینار میں شریک ہونے والے سارے مفتیانِ کرام نے اپنے بزرگوں کی حمایت و تائید میں متفقہ طور پر اپنے اپنے موقف کا اعلان کیا۔
اخیر میں یہ بھی طے پایا کہ مفتیانِ اہلِ سنت کا یہ فتویٰ اردو ہندی اور انگریزی پریس کو بغرضِ اشاعت ارسال کر دیا جائے تاکہ ہندوستان کے مسلمان اپنے آپ کو مذہبی اور سیاسی مضرت سے بچا سکیں۔
اب ہم ذیل میں مسئلہ کی نوعیت اور جانشین حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری صاحب قبلہ کا جواب اور علماے اہلِ سنت کی تصدیقات نقل کرتے ہیں۔
سوال:کیا شناختی کارڈ کے لیے (جو لازم کیا جا رہا ہے) مسلمانوں کو تصویر کھنچانے کی اجازت ہے؟ اگر یہ نہ بنوائیں تو ووٹ سے  اور شہریت سے محروم کر کے ملک بدر کر دیے جائیں گے اور بھی طرح طرح کی مشکلات سے دو چار ہوں گے۔
الجواب: چوں کہ اس صورت میں عند الطلب ضرورتِ ملجئہ یا حاجتِ شدیدہ متحقق ہوگی، لہٰذا خاص شناختی کارڈ کے لیے تصویر کھنچانے کی اجازت ہوگی۔ الضرورات تبیح المحظورات۔ والحاجۃ تنزل منزلۃ الضرورۃ۔ وما ابیح للضرورۃ یتقدر بقدرہا۔ کذا فی الاشباہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
  فقیر محمد اختر رضا قادری ازہری غفرلہ 
شب 22؍ رجب 1415ھ
بقلم محمد احمد مصباحی
تصدیقات علمائے کرام:محمد شریف الحق امجدی (صدر شعبۂ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور)، ارشد القادری غفرلہ (بانی جامعہ نظام الدین دہلی)، ضیاء المصطفیٰ قادری (صدر المدرسین جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)، عبد الحفیظ عفی عنہ (سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور) ، جلال الدین احمد الامجدی (صدر شعبۂ افتا فیض الرسول براؤں شریف)، بہاء المصطفیٰ قادری (استاذ دار العلوم منظر اسلام، بریلی شریف)، شبیر حسن رضوی ( مفتی الجامعۃ الاسلامیہ روناہی، فیض آباد)، خواجہ مظفر حسین (صدر المدرسین دار العلوم نور الحق چرہ محمد پور، فیض آباد) ، محمد عبد المبین نعمانی (صدر المدرسین دار العلوم قادریہ، چریا کوٹ، مئو) محمد نظام الدین رضوی (نائب مفتی جامعہ اشرفیہ، مبارک پور) ، محمد عبد الحق رضوی (استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)، محمد معراج القادری (رکن مجلس شرعی مبارک پور)، قاضی شمس الدین اشرفی (ناظم و مفتی مدنی عربک کالج ہبلی)، عابد حسین مصباحی (مفتی فیض العلوم، جمشید پور)، اختر حسین قادری (استاذ دار العلوم ربانیہ، باندہ) قاضی شہید عالم (مفتی مدرسہ شمس العلوم بدایوں) زاہد علی سلامی (ناظمِ تعلیمات مدرسہ فیض العلوم سنبھل)۔
[6/25, 10:36 PM] Mohd Idrees: درج بالا رپورٹ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۹۶ء میں ہونے والے مجلسِ شرعی کے فقہی سیمینار کی ہے۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ان میں چند اکابر مفتیانِ کرام اب اس دنیا سے رخصت ہوگئے، موجودہ بزرگوں میں بھی علوم و فنون میں اضافے ہوئے، ان کے مناصب بھی بلند ہوئے،القابات و خطابات بھی تبدیل ہوئے اللہ تعالیٰ ان کے مراتب میں مزید اضافے فرمائے۔آمین۔
 *حافظِ ملت اور جامعہ اشرفیہ پر تاج الشریعہ کا  ایک اہم تأثر:* 
اب ہم ذیل میں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ العزیز کا ایک گراں قدر تاثر نقل کرتے ہیں۔یہ تو سب جانتے ہیں  گھڑپ دیو سنی بڑی مسجد کے ایک بڑے روم میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا آفس قائم ہوا تھا، اس افتتاح کے موقع پر حضور اشرف العلما سید محمد حامد اشرف اشرفی جیلانی  علیہ الرحمہ، حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ، شارح بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ، عزیزِ ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ عزیزی دامت برکاتہم العالیہ وغیرہ اور یہ راقم مبارک حسین مصباحی بھی کفش برداری کے لیے بھی حاضر تھا۔ اس کی مکمل رپورٹ ہم نے ماہ نامہ اشرفیہ مبارکپور میں نوٹ کی تھی۔ حضور تاج الشریعہ قدس سرہ کا یہ گراں قدر تاثر بھی ہم نے سن کر قلم بند کیا تھا اب ہم اس اہم تاثر پر اپنی تحریر ختم کرتےہیں: حضور نے اپنے گراں قدر خطاب میں ارشاد فرمایا تھا: 
”حضور صدر الشریعہ کے تلامذہ میں ایک سے ایک جلیل القدر، ذی استعداد اور باصلاحیت افرادپیداہوئے، مگر ہندوستان میں جو فیض حضور حافظِ ملت کا جاری ہوا وہ کسی کا نہ ہوا، اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے کتابیں لکھیں، حضور حافظِ ملت نے علما پیدا کیے اور اعلیٰ حضرت کے مشن کی ترویج و اشاعت میں جو کردار حافظِ ملت، جامعہ اشرفیہ اور اس کے فرزندوں نے ادا کیا ہے وہ کہیں نظر نہیں آتا، اشرفیہ کا کام صرف اشرفیہ کا نہیں، بلکہ اعلیٰ حضرت کاکام ہے، مفتی اعظم ہند کا کام ہے، رضویت کا کام ہے۔“ (ارشاد گرامی: بموقع افتتاح دفتر اشرفیہ، ممبئی، ۳؍ جنوری ۱۹۹۲ء)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here