چینی دراندازی پر حکومت کو سچ بتانا چاہئے: سونیاگاندھی

0
9

نئی دہلی: کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ چین کی سرحد پر جنگ کا ماحول ہے اور حکومت اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتی۔جمعہ کو یہاں جاری ایک ویڈیو پیغام میں محترمہ گاندھی نے کانگریس کے ذریعہ جمعہ کے روز شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقدہ’شہداء کو سلام‘ کے موقع پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ چین ہماری سرحد میں داخل نہیں ہوا ہے، تو حکومت یہ بتائے کہ ہمارے 20 فوجی کیسے شہید ہوئے ہیں۔ چینی فوج وادی گلوان میں نئی تعمیرات اور نئے بنکر تعمیر کرکے سرحدوں کی خلاف ورزی کررہی ہے اور سیٹیلائٹ کی تصویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے سرحد پر اپنی فوجی پوزیشن کو مضبوط کرلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا ملک ہماری فوج کے ہاتھوں میں محفوظ ہے اور کانگریس پارٹی حکومت اور فوج کے ساتھ پوری طرح کھڑی ہے۔ چینی دراندازی کی تصدیق مختلف ذرائع سے کی گئی ہے لیکن مسٹر مودی کا کہنا ہے کہ کسی نے بھی قبضہ نہیں کیا ہے۔ مسٹر مودی کو ہندوستان کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی بجائے یہ بتانا چاہئے کہ چینی فوجی کب اور کیسے ہماری سرحد سے باہر ہوں گے۔مسٹر راہل گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ بھی کہا کہ پورا ملک اس ملک کی حفاظت کے لئے حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن لداخ کے لوگ، فوجی جنرل، سیٹیلائٹ کی تصاویر بتا رہے ہیں کہ ہندوستان کی سرحد پر چین کی ایک نہیں بلکہ تین جگہوں پر قبضہ کیا ہے۔ اس سچائی کو کیوں چھپایا جارہا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ چین نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر لیا ہے اور چین کو واپس بھگانا ہے، اس لئے مسٹر مودی کو بنا ڈرے ہوئے یہ سچ بتانا ہوگا کہ چین نے ہماری کتنی زمین پرقبضہ کیا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا،”ہماری فوج کے بہادر سپاہی ملکی سالمیت اور ملکی دفاع کے لئے شہید ہوئے۔ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دی جائے گی۔ ملک کی ایک انچ بھی زمین نہیں جانے دیں گے۔ ملک حقیقت جاننا چاہتا ہے۔“ادھر، کانگریس کے مواصلات کے محکمہ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا، سینئر رہنماؤں پی راجو، جتیندر سنگھ اور پون کھیڑا نے اس پریس کانفرنس میں بتایا کہ سابق آرمی جنرل بتا رہے ہیں کہ چین نے 18 کلومیٹر تک ہماری سرزمین پر قبضہ کیا ہے لیکن بد قسمتی مودی سرکار اس سچائی کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ مودی حکومت چینی فوج کی دراندازی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مسٹر مودی وزیر اعظم کی حیثیت سے پانچ بار چین کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں اور اگر چین ہماری سرزمین پر قبضہ کر رہا ہے تو پھر اس دورے کا کیا مطلب ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here