مسلم خاتون لوکل ٹرین کی موٹر وومن کے طور پر میدان عمل میں سرگرم

0
8

ممبئی:سینٹرل ریلوے نے گزشتہ ہفتے سے لوکل ٹرینوں کو سرکاری ملازمین اور طبی عملے کے لیے چلانے کا فیصلہ کیا اور اس مہم میں دو خواتین موٹروومنزمیں سے ایک باپردہ مسلم خاتون لوکل ٹرین ڈرائیور بھی اہم رول ادا کررہی ہیں اور لازمی کاموں کے لیے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ان کی منزل تک پہنچانے میں سرگرم ہیں۔اور اپنے روزمرہ کے معمولات بھی بخوبی انجام دے رہی ہیں۔کورونا وائرس کی وباء کے تیزی سے پھیلنے کے دوران خاتون موٹر وومنز ممتاز قاضی اپنی ساتھی محترمہ منیشا مہاسکے گھورپڑے کے ساتھ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں جبکہ ممتاز قاضی مذہبی تعلیمات بھی بخوبی انجام دے رہی ہیں اور لوگوں کو بحفاظت اپنی منزل تک پہنچانے کے لیےڈیوٹی کررہی ہیں ۔ان کے ساتھ ساتھ ریلوے کے دوسرے شعبوں میں سینکڑوں خواتین سرگرداں ہیں ،جیسے ریلوے پروٹیکشن فورس،خاتون اسٹیشن ماسٹر،بکنگ کلرک،ٹی سی،طبی عملہ اور صفائی ملازمہ بھی شامل ہیں۔
سینٹرل ریلوے کے ترجمان شیواجی ستار نے کہا کہ ان کے ذریعے ٹرین مسافروں کو یہ واضح پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بحفاظت رہیں اور دوسروں کو بھی حفاظت میں رکھنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔اسی پر عمل۔کرتے ہوئے یہ موٹر ومنز لوگوں کی خدمت میں لگی ہیں اور کامیابی سے ہم کنار ہیں۔ممبئی کی زندگی کہی جانے والی سینٹرل ریلوے اور ویسٹرن ریلوے نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی اپیل پر لازمی خدمات میں سرگرم سرکاری ملازمین کے لیے ٹرین سروسز شروع کی ہیں۔ممتاز قاضی گہرے رنگ میں ملبوس ہوکر 167سال پرانے چوری بندر یعنی سی ایس ایم ٹی اسٹیشن اور تھانے کے درمیان لوکل ٹرین چلارہی ہیں اور اپنی دوستی معاون منیشا کے شانہ بشانہ ہیں۔جوکہ سی ایس ایم ٹی اور پنویل کے درمیان سفر کررہی ہیں۔اس دوران دونوں ہرممکن۔احتیاطی تدابیر کررہی ہیں۔محکمہ ریلوے میں حفاظتی انتظامات میں کئی خواتین۔کارفرما ہیں جن میں سنیتااور سونالی بھی ہیں جبکہ پٹری کی دیکھ بھال کرنے والی پریتی رانےسمیت سینکڑوں خواتین کام انجام دے رہی ہیں۔انہوں نے کرونا وائرس سے مقابلہ۔کرتے ہوئے اپنا کام انجام دینے کی۔کوشش کی ہے اور حفاظت کا خیال بھی رکھا جارہا ہے۔واضح رہے کہ دونوں ریلویز کی لوکل ٹرینوں سے روزانہ 85لاکھ مسافر کرتے ہیں ،جوکہ مغربی خطہ میں چرچ گیٹ سے پالگھر تک اور سینٹرل ریلوے کے ذریعے رائے گڑھ ضلع تک چلائی جاتی ہیں۔اور پہلی بار اتنے عرصے تک لوکل ٹرینوں کو یارڈ میں کھڑا رہنا پڑا ہے۔ ان کو ممبئی کی زندگی بھی کہا جاتا ہے اور لوکل ٹرینوں کی پٹریوں کے دونوں طرف بسے لاکھوں لوگوں کے لیے الارم کا کام بھی کرتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here