یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم

0
32
Judge gavel, scales of justice and law books in court
Seraj Naqvi

سراج نقوی
امروہہ سے تعلق رکھنے والے مشہور پاکستانی شاعر جون ایلیا کا شعر ہے کہ،
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کا ر مسیحا کیوں کریں ہم
جون ایلیا نے مذکورہ شعر کس تناظر میں کہا تھا اور اور ان کا مخاطب کون تھا یہ ایک الگ اور ادبی بحث کا موضوع ہے،لیکن آج ہمارا ملک جن حالات سے گزر رہاہے اور بی جے پی اقتدار والی حکومتوں کا خصوصاً و اپوزیشن پارٹیوں کے اقتدار والی ریاستی حکومتوں کا عموماً جو رویہ ہے اس پر یہ شعر پورطرح صادق آتا ہے۔اس وقت حکمرانوں کا مسلمانوں کے تعلق سے جو رویہ ہے اس میں مسلمانوں اور دلتوں کو مزید حاشیے پر دھکیلنے کے تمام ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔سب سے زیادہ باعث تشویش بات یہ ہے کہ بیشتر معاملوں میں عدالتیں بھی مسلمانوں کو راحت دینے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ہوسکتا ہے عدالتوں کے اس رویے کے پس پشت کچھ قانونی یا دیگر اسباب ہوں لیکن مسلمانوں کے لیے بقول علی سردار جعفری’ ’راستے بند ہیں سب کوچئہ قاتل کے سوا‘‘۔
گذشتہ چند روز کے دوران اترپردیش کانگریس کے صدر اجے کمار للّو اور سماجی وادی پارٹی کے قومی صدر و سابق وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادونے کئی اہم معاملوں پر حکمراں بی جے پی اور ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ان لیڈران نے یوگی سرکار کی جن پالیسیوں پر سوال اٹھائے ہیں ان کی اہمیت اور ضرورت سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا،لیکن ان پالیسوں کو کسی دوسری حکومت کے آنے پر تبدیل کرکے حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔جبکہ عوام اور اس سے بھی زیادہ بیوروکریسی کے ذہن میں زہر گھولنے کے نتائج کہیں زیادہ خطرناک اور دیر پا منفی اثرات کے حامل ہونگے،لیکن بی جے پی کے ہندوتو کے ایجنڈے سے خوفزدہ یا پھر درپردہ ان کی حامی ہونے کے سبب اپوزیشن پارٹیوں نے ایسے تمام معاملات پر اپنے لب سی لیے ہیں۔ان اپوزیشن پارٹیوں کو شائد ڈر ہے کہ ایسے معاملوں میں لب کشائی اکثریتی فرقے کی ناراضگی کا باعث بن سکتی ہے۔حالانکہ یہ درست نہیںہے۔ بہرحال اپوزیشن لیڈروں کی ایسے معاملات میںخاموشی کے چند معاملوں پر نگاہ ڈالتے ہیں۔
اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے کمار للّو گزشتہ ماہ گرفتار ہو گئے تھے۔انھیں مہاجر مزدوروں کے معاملے میں یوگی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے سبب گرفتار کیا گیا تھا۔یہ بات بہرحال قابل تعریف ہے کہ کانگریس نے مہاجر مزدوروں کے مسائل اور پریشانیوں کو زیادہ پر زور انداز سے اٹھایا اور ان مزدوروں کو ان کے گھر پہنچانے کے لیے بسوں کا انتظام کرکے یوگی سرکار سے ان بسوں کو چلانے کی اجازت مانگی۔یہ الگ بات کہ سیاسی اسباب سے حکومت نے ان بسوں کو چلانے میں رکاوٹیں پیدا کیں اور اجے کمار للو کے احتجاج کے بعد انھیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔لیکن جیل سے باہر آنے کے بعد چند روز قبل اپنی پریس کانفرنس میں ریاستی کانگریس کے صدر نے جوبیان دیا ہے اس میں ریاست کے مسلمانوں کا کوئی ذکر نہ ہونا باعث افسوس ہے۔ریاستی کانگریس کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ مزدوروں کے لیے ہزار بار جیل جانے کو تیار ہیں۔اجے کمار للو کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ مزدور،دلت ومحروم اور پسماندہ طبقات سے خوفزدہ ہیں۔کانگریس صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’بی جے پی کی غریب ،مزدورمخالف ذہنیت پوری طرح صاف ہو گئی ہے۔‘ ریاستی کانگریس صدر نے جو کچھ کہا ہے اس کی سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن اس سچ کا ایک پہلو اور شائد زیادہ خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت کورونا کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔جن مزدوروں کے حق میں اجے کمار للو آواز بلند کر رہے ہیں ان مہاجر مزدوروں کی مدد کے نتیجے میں ہردوئی میں ۱۱۲ افراد کے خلاف ایف آئی آر پولیس نے درج کی تھی۔اس میں جن ۱۲ افراد کو نامزد کیا گیا وہ سب مسلمان ہی تھے۔تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے معاملے میں جو رویہ اختیار کیا گیا اس کی تفصیل ساری دنیا کے سامنے آچکی ہے۔ڈاکٹر کفیل کے ساتھ جو ظالمانہ رویہ یوگی حکومت اختیار کر رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔لیکن اس کے باوجود اگر کانگریس صدر نے اپنے بیان میں دلتوں اور مزدوروں و پسماندہ طبقات کی بات کرتے ہوئے مسلمانوں کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا تو اسے کیا کہا جائے؟ڈاکٹر کفیل کا ذکر آیا ہے تو ایک عدالتی فیصلے کا ذکر کرنا شائد غلط نہ ہوگا۔
چند روز قبل دلی کے ایک اسپتال کے ڈاکٹر نے اسپتال کی بدحالی کی ویڈیو بنا کر اسے سوشل میدیا پر شیئر کیا تھا۔کیجریوال سرکار نے ڈاکٹر کی اس حرکت پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی تھی۔ڈاکٹر کو اسپتال انتظامیہ نے معطل بھی کر دیا۔بہرحال کورونا کے معاملے میںدلّی کے خراب حالات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے نہ سرف یہ کہ دلی سرکار کے طور طریقوں پر سخت ناراضگی طاہر کی بلکہ کیجریوال سرکا ر سے یہ بھی کہا کہ وہ ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کو غلط طریقے سے نشانہ بنانا بند کرے۔انھیں دھمکی نہ دے بلکہ ان کے ساتھ تعاون کرے۔عدالت نے سخت لہجے میں دلّی حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ سچ کو دبا نہیں سکتی۔
مذکورہ معاملے میں عدالت کا از کود نوٹس لیتے ہوئے دلّی سرکار کی سخت الفاظ میں سرزنش کرنا یقیناً عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور اس سے دبائو میں کام کر رہے ڈاکٹروں کو راحت محسوس ہوئی ہوگی۔لیکن اگر اتر پردیش میں مہاجر مزدوروں کو کھانا فراہم کرنے والے اقلیتی طبقات کے جن افراد کے خلاف پولیس نے بے بنیاد الزام میں ایف آئی آر درج کی،ان کے حق میں اور اتر پردیش پولیس کے خلاف بھی ایسا ہی ہوتا تو بغیر تفریق مذہب و ملت کام کرنے والے ان سماجی کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہو جاتی۔ان افراد کو بھی تو فلاحی کام کرنے سے روکنا کورونا کے خلاف جنگ کو کمزور کرنا ہے۔اس لیے اس وقت جو لوگ بھی پوری غیر جانبداری سے فلاحی کاموں میں حصہ لے رہے ہیںوہ درحقیقت حکومت کی ذمہ داریوں کے بوجھ کو کم کر رہے ہیں،لیکن اتر پردیش کی پولیس کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ان کے حوصلے پست کیے جا رہے ہیں۔اسی طرح مظلوم ڈاکٹر کے معاملے کا بھی نوٹس لیا جانا اس لیے بیحد ضروری ہے کہ اس وقت ملک کو ہونہار ڈاکٹروں کی سخت ضرورت ہے اور ڈاکٹر کفیل جیسے باصلاحیت ڈاکٹر کو بے بنیاد الزام میں جیل میں رکھنا سوائے تعصب اور ایک خاص طبقے کے خلاف حکومت ،پولیس اور انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے کے اور کچھ نہیں۔
بہرحال اصل بحث اپوزیشن پارٹیوں کے رویے کو لیکر تھی۔اتر پردیش کانگریس صدر کے مذکورہ بیان کی طرح ہی سماجوادی پارٹی صدر اور صابق وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو کا بیان بھی مسلمانوں کے تئیں ان کی بے رخی کا مظہر ہے۔اکھلیش نے بجا طور پر یوگی حکومت پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ کورونا سے جنگ میں ناکام رہی ہے۔اکھیلیش نے یوگی سرکار کے دور میں ہوئے بے شمار گھوٹالوں اور ان معاملوںکے تار مبنیہ طور پر ریاستی سکریٹریٹ سے جڑے ہونے پر بھی سوال اٹھائے۔یہ بات درست ہے کہ ان تمام معاملوں پر سرکار سے سوال پوچھا جانا چاہیے لیکن اتنا ہی ضرووری یہ بھی ہے کہ خود کو سیکولر کہنے والی پارٹیاں دلتوں اور مسلم اقلیت پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھی آواز بلند کریں،اس لیے کہ ان معاملوں میں اپوزیشن کی خاموشی ملک کے سیکولر تانے بانے کو اتنا بھیانک نقصان پہنچا رہی ہے کہ جس کا ازالہ کرنے میں برسوں لگ جائینگے۔ایسے معاملوں میں اپوزیشن کی خاموشی فرقہ پرستوں اور ان کے برسر اقتدار آقائوں کے حوصلے بڑھانے کا کام کر رہی ہے اور اس کا بالواسطہ اثر کورونا کے خلاف جنگ پر بھی پڑ رہا ہے۔لیکن اگر ایسے معاملوں میں اپوزیشن خاموش ہے تو شائد اس کا نظریہ بھی وہی ہے جو جون ایلیا کے مذکورہ بالا شعر میں پیش کیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here