حضرت علامہ عبد الرزاق بھترالوی علیہ الرحمہ

0
105
حضرت علامہ شاہ عبد الرزاق چشتی بھترالوی
مبارک حسین مصباحی

مبارک حسین مصباحی
استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
انتہائی غم و اندوہ کے ساتھ یہ خبر دی جا رہی ہے کہ اہلِ سنت کے عظیم مفسر اور بلند پایہ محدث و فقیہ استاذ الاساتذہ حضرت علامہ شاہ عبد الرزاق چشتی بھترالوی کا وصال پر ملال 10؍ جون 2020ء کو اسلام آباد میں ہو گیا، یہ المناک خبر پڑھ کر کلمات استرجاع پڑھے اور کچھ تلاوت کر کے انھیں ایصالِ ثواب کیا، بر صغیر اور خاص طور پرمملکت پاکستان میں سخت رنج و غم کا اظہار کیا گیا، آپ قابلِ صد افتخار استاذ، بلند پایہ شیخ التفسیر، عظیم محدث تھے آپ نے پچاس سے زیادہ علمی، تحقیقی اور فقہی کتابیں لکھیں، آپ کے ہزاروں تلامذہ ملک اور بیرونِ ملک فکر و فن، دین و دانش، تدریس و تصنیف اور دعوت و تبلیغ کی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

خاندانی عظمت اور ولادت با سعادت:آپ کی ولادت باسعادت بھترال میں انیس سو سینتالیس (1947ء) میں ایک علمی اورقاضی خاندان میں ہوئی، آپ کا خاندان صدیوں سے علما، فضلا اور مشائخ کا کا گہوارہ رہا ہے۔ آپ کے والد ماجد حضرت قاضی عبد العزیز علیہ الرحمہ، دادا جان حضرت قاضی فیض احمد علیہ الرحمہ تھے۔آپ کے خاندان کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ حضرت علامہ قاضی برہان الدین قدس سرہ، پیرِ طریقت ماہتابِ شریعت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ کے مشفق استاذ و مربی تھے۔ مدارس کے نصاب میں شامل کتاب ”صرف بھترال“ کے مصنف آپ ہی کے خاندان کے بزرگ حضرت علامہ قاضی غلام رسول بھترالوی علیہ الرحمۃ والرضوان تھے۔
تعلیم وتربیت:آپ نے علمی اور روحانی خاندان میں آنکھیں کھولیں، ہر طرف روحانیت کی فضا تھی، حفظِ قرآنِ عظیم کے بعد درسِ نظامی کا آغاز فرمایا، ابتدائی کتابیں دارالعلوم جہلم میں پڑھیں، گولڑہ شریف میں حضرت علامہ محب النبی اور حضرت علامہ گل اکرام کے زیرِ درس رہے، اسرار العلوم راولپنڈی میں تعلیم حاصل فرمائی، وہاں حضرت مولانا عبد القدوس اور حضرت مولانا قاضی اسرار الحق کے روبرو زانوے تلمذ طے فرمایا، جامعہ نعیمیہ لاہور میں حضرت مفتی محمد حسین نعیمی، حضرت مولانا محمد امین، حضرت مولانا محمد اشرف سیالوی، حضرت مولانا عزیر احمد قادری اور شرفِ ملت حضرت علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری سے علوم و فنون حاصل فرمائے اور سندِ فراغت حاصل فرمائی۔ جامعہ قادریہ فیصل آباد میں تدریس کے دوران حضرت مفتی محمد افضل حسین مونگیری سے علم توقیت پڑھنے کا شرف حاصل فرمایا:
تدریسی خدمات:حضرت علامہ قاضی عبد الرزاق بھترالوی ایک بہترین فاضل اور مدرس اعلی تھے، آپ کی تصانیف خصوصا ًدرسی کتب پر گرانقدر حواشی منقولات و معقولات میں آپ کی غیر معمولی دسترس کا واضح ثبوت ہیں۔ استاذ العلماء علامہ سید حسین الدین شاہ آپ کے بارے لکھتے ہیں کہ :’’حضرت مولانا فطری اور طبعی طور پر تدریسی شعبے سے متعلق ہیں، علمی خانوادے کا چشم و چراغ ہونے کے ناطے معقولات و منقولات میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں زندگی کا بیشتر حصہ اسی نہج پر راہ نوردی کرتے گزارا ہے آپ کے تلامذہ میں سے کئی محقق علما اپنے علم و تحقیق کا لوہا منوا چکے ہیں۔ ‘‘
آپ نے تقریباً 50 سال تک تشنگان علم کو سیراب کیا ہے ایک سال قاضی اسرار الحق کے مدرسے اسرار العلوم میں مدرس رہے، پھر چھ سال تک استاذ العلماء سید ابو البرکات اور شارح بخاری علامہ محمود احمد رضوی کے زیر سایہ جامعہ حزب الاحناف لاہور میں تدریس فرماتے رہے، پھر دو سال تک بحر العلوم مفتی سید محمد افضل حسین مونگیری کے پاس جامعہ قادریہ میں تدریس فرمائی، بعد ازاں تقریباً 25 سال سے زائد عرصہ تک سید حسین الدین شاہ صاحب کے جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور آخر میں کئی سال تک جامعہ جماعتیہ مہر العلوم کے مہتمم کی حیثیت سے علم دین کی روشنی عام کرتے رہے۔
شروح وحواشی اور تصنیفی خدمات:آپ کی تحریری و تصنیفی خدمات کا دائرہ بھی کافی وسیع ہے، مختلف موضوعات پر 50 سے زائد کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہدایہ کی چار جلدوں سمیت متعدد درسی کتب پر عربی زبان میں گرانقدر حواشی تحریر فرمائے ہیں اگر صرف ان حواشی کا جائزہ لیا جائے تو 5000 سے زائد صفحات پر مشتمل ہوں گے۔
مستقل تصنیفات:تفسیر نجوم الفرقان (22 جلدیں)٭تذکرۃ الانبیاء٭شمع ہدایت٭نماز حبیب کبریا٭امام اعظم اور فقہ حنفی٭تسکین الجنان فی محاسن کنز الایمان٭جواہر تحقیق افضلیت سیدنا ابو بکر صدیق٭نجوم التحقیق٭تکریم والدین مصطفیٰ٭اسلام میں عورت کا مقام ٭سبز عمامے کی برکتوں سے کذاب جل اٹھے٭موت کا منظر مع احوال حشر و نشر٭ابن ماجہ شریف کی شرح بھی لکھی
حواشی:جن درسی کتب پر اردو یا عربی حواشی تحریر فرمائے ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں:
ہدایہ (4 جلدیں)
٭کنز الدقائق٭قدوری٭نور الایضاح
٭تلخیص المفتاح
٭سراجی
٭مراح الارواح٭میزان الصرف
فتاویٰ جات:قاضی صاحب 25 سال سے زائد عرصہ تک جامعہ رضویہ ضیاء العلوم سے وابستہ رہے اس دوران میں دار الافتاء کی ذمہ داری بھی سنبھالتے رہے ہیں۔
دیگر چند خصوصیات:استاذ العلما حضرت علامہ عبد الرزاق چشتی بھترالوی جلیل القدر مفسر و محدث، مستند فقیہ اور بافیض استاذ الاساتذہ تھے،اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلم میں حیرت انگیز برکت رکھی تھی،زہدو پارسائی میں بھی یکتائے روزگار تھے آپ کو حضرت پیر سید غلام محی الدین گولڑوی عرف بابو جی قدس سرہ سے شرفِ بیعت حاصل تھا۔ آپ کے قلم میں حیرت انگیز روانی تھی، جو بھی تحریر فرماتے نپے تلے انداز اور سنجیدہ لب و لہجہ میں ہوتا، معتبر حوالوں کا بھر پور اہتمام فرماتے، اکابر اصاغر اور علما و مشائخ آپ کی کتابوں کو توجہ کے ساتھ پڑھتے۔آپ نے مختصر وقت میں پچاس سے زائد کتابوں کا انبار لگا دیا۔در اصل آپ کی اہم کتاب ”موت کا منظر مع احوال حشر و نشر“ جنوری 1996ء میں المجمع المصباحی مبارک پور سے ہم نے شائع کی، چار سو صفحات کی یہ اہم کتاب حد درجہ مقبول ہوئی ، حضرت علامہ مصنف علیہ الرحمہ کتاب کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس نے مجھے یہ توفیق عطا فرمائی کہ یہ کتاب تین ماہ بیس دن میں مکمل کرلی۔“
حضرت نے تکمیل کی تاریخ اس طرح رقم کی ہے:”الاختتام بفضلہٖ تعالیٰ 4؍ دسمبر َ1994ء / 29؍ جمادی الآخرہ اتوار صبح صادق “۔کتاب کے آغاز میں پیرِ طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری دامت برکاتہم العالیہ (علیہ الرحمہ) نے تعارف مصنف سے نوازا ہے۔ مصنف کی معروف کتاب ”تسکین الجنان فی محاسن کنز الایمان“ پر شیخ الحدیث علامہ محمد اشرف سیالوی کی تقریظ سے ایک گراں قدر اقتباس ہے”پیشِ لفظ“ کے عنوان سے ایک اہم تحریر عالی جناب آصف قادری نے سپرد قلم کی ہے آپ نے ہی جلیل القدر شخصیت حضرت علامہ مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی قدس سرہ کا ایک معلومات افزا مکتوب بنام مصنف شاملِ اشاعت کیا ہے۔ یہ مکتوب در اصل حضرت علامہ عبد الرزاق بھترالوی علیہ الرحمہ کے ایک عربی حاشیے بنام ”ذریعۃ النجاح حاشیہ نور الایضاح“ سے متعلق ہےہم ذیل میں اس کا آخری اقتباس نقل کرتے ہیں۔
”ذریعۃ النجاح حاشیہ نور الایضاح“ کتابت ، طباعت اور کاغذ کے اعتبار سے اعلیٰ اور خوبصورت ہے، حاشیہ کا اندازِ بیان مختصر جامع اور آسان ہے۔ حواشی کے ماخذ بیان کرنے سے قاری کو مزید رہنمائی اور اعتماد سے بہرہ ور کیا گیا ہے۔ کتاب کے شروع میں تمام اساتذہ اور مراکز تعلیم کا تعارف دے کر حسن جدت کے علاوہ آپ نےاپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ فرمایا ہے۔ ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“ ہی اعلیٰ قدروں کا معیار ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی یہ خدمات دوسرے علماے کرام کےلیے تحریک اور مدرسین اور طلبا کےلیے نعمت ثابت ہوں گی۔ ائمۂ کرام کے مختصر اور ضروری تعارف کے بعد طبقات فقہاے احناف سے طلبائے کرام بلکہ اساتذۂ کرام بھی مستفید ہوں گے۔ آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت اور توفیق عطا فرمائے اور آپ کی مساعی میں مزید برکت فرمائے۔آمین۔‘‘ (محمد عبد القیوم ہزاروی)
حضرت علامہ عبد الرزاق بھترالوی علیہ الرحمہ موت کے منظر کے صفحہ تین سو اٹھانوے پر ”حرفِ آخر“ کے عنوان سے تحریر فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے آبا و اجداد، اہل و عیال، اساتذۂ کرام، رفقائے کرام کو جنت الفردوس عطا فرمائے، دوزخ سے محفوظ فرمائے، عذابِ قبر سے بچائے، دینِ حق اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ پر قائم و دائم فرمائے۔“(آمین ثم آمین)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here