کیا حکومت کا مزدوروں پر مالکانہ حق ہے؟

0
9
Seraj Naqvi

سراج نقوی
چند روز قبل کانگریس صدر سونیا گاندھی نے مرکز کی مودی سرکار کے تعلق سے کہا کہ’ اب حکومت نے جمہوری طرز عمل کا دکھاوا کرنا بھی بند کر دیا ہے۔‘حالانکہ درباری میڈیا نے سونیا کے اس بیان کو حسب عادت زیادہ اہمیت نہیں دی ،لیکن سچ یہ ہے کہ سونیا گاندھی کا یہ بیان فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہماری جمہوریت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگاتا ہے۔
اتر پردیش کی یوگی سرکار بھی جمہوریت کو اپنی مرضی کا غلام بنانے کی اسی راہ پر گامزن ہے۔حالیہ دنوں میں ریاست میں جس طرح کے قوانین پاس کیے گئے۔جس طرح پولیس اور انتظامیہ نے عوام کے جمہوری حقوق کو نظر انداز کرکے حکومت کے اشارے پرلوگوں کے خلاف ملک سے غدّاری سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمے قائم کیے۔ انھیں جیلوں میں ڈالا گیا،اسے عوام کے جمہوری حقوق پر قدغن لگانے کی کوشش کے سوا کیا کہا جائے؟اقتدار کے نشے میں بدمست حکمرانوں کو یہ احسا س نہیں ہے کہ اپنے ووٹ کے ذریعہ انھیں مسند اقتدار تک پہنچانے والے عوام ان کی ملکیت نہیں بلکہ ان کے محسن ہیں۔جمہوریت میں عوام کی طاقت کو نظر انداز کرکے ان کے مسائل اور پریشانیوں سے چشم پوشی کرنے والے یہ مان بیٹھے ہیں کہ اب انھیں اقتدار سے کوئی بے دخل نہیں کر سکتا۔اتر پردیش کی بات کریں تو یوگی سرکار اور ریاستی انتظامیہ نے مسلسل ایسے کئی قدم اٹھائے ہیں جن سے اندازہ ہوتا کہ ریاست میں قانون سے زیادہ پولیس کی منمانی کا راج ہے،بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پولیس منمانی دراصل سیاسی اقتدار کے اشاروں پر ہی ہو رہی ہے۔اس تعلق سے د و واقعات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔
پہلا واقعہ مہاجر مزدوروں کو ممبئی سے اتر پردیش لانے والی ایک ٹرین سے متعلق ہے۔۲۴ مئی کو ممبئی سے روانہ ہوکر یہ ٹرین جب ریاست کے ضلع ہردوئی پہنچی تو کئی دن کے بھوکے پیاسے مزدوروں کا بھوک سے برا حال تھا۔ان مسافروں کی مدد کے لیے مقامی لوگوں نے بڑے پیمانے پر ٹرین میں کھانے کے پیکٹ اور پانی تقسیم کرکے بالواسطہ طور پر ریاستی حکومت کی مدد ہی کی،لیکن پولیس نے اس کار خیر کی تعریف یا ستائش تو درکنار مدد کرنے والوں کے خلاف اس بات کے لیے ایف آئی آر درج کر دی کہ انھوں نے حکومت اور انتظامیہ کی اجازت کے بغیر یہ کار خیر کیوں کیا۔سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور انتظامیہ یہ چاہتی تھی کہ مزدوروں کو کھانا تقسیم کرنے والے اجازت کی پیچیدگیوں میں لگ جائیں اور مزدور بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر جائیں۔جیسا کہ کئی ٹرینوں یا اسٹیشنوں پر مربھی رہے ہیں۔اس معاملے میں پولیس نے کل ۱۱۲ سماجی کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر دج کی ہے،ان میں ۱۲ کے نام ہیں اور باقی ۱۰۰ گمنام افراد کے خلاف ایف آئی آر کی گئی ہے۔یہ تمام ۱۲ افراد اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اقلیتوں کے کارخیر کو بھی یوگی سرکار یا پولیس جرم مانتی ہے۔ کیا بھوکے ،مفلس اور نادار لوگوں کی مدد کے لیے بھی حکومت کا اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے؟کیا یہ حکمرانوں کی اپنے مجبور عوام کے تعلق سے انتہائی درجے کی بے حسی نہیں ہے؟ دوسرا معاملہ مہاجر مزدوروں کے دیگر ریاستوں میں جا کر مزدوری کرنے سے متعلق ہے۔حالات کی مار جھیل رہے اتر پردیش کے مزدوروں کی اپنی ریاست میں واپسی کے سبب حکومت بوکھلاہٹ کی شکار ہے۔اس بوکھلاہٹ کا ٹھیکرا وہ اپوزیشن کی ان ریاستوں پر پھوڑنا چاہتی ہے جہاں سے یہ مزدور واپس آرہے ہیں۔مہاراشٹر اور دلی ان میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان مزدوروں کی واپسی سے پریشان یوگی حکومت نے کہا ہے کہ ’’ہمار ی جازت کے بغیر دوسری ریاستیں ہمارے لوگوں کو مزدوری کے لیے نہیں لے سکتیں۔‘‘ مجھے نہیں معلوم کہ خود یوگی یا ان کے نوکر شاہوں کو آئین و قانون کی کتنی جانکاری ہے ،لیکن ’ایک بھارت ‘ کے دعوے کرنے والوں کو یہ تو واضح کرنا ہی ہوگا کہ کیا مہاراشٹر،دلّی یا دیگر ریاستوں خصوصاً اپوزیشن کے اقتدار والی ریاستوں کو وہ اس ’ایک بھارت ‘ میں نہیں مانتے؟ اور اگر مانتے ہیں تو پھر اس ملک کے ہر شہری کو یہ حق ہے کہ وہ ملک کے کسی بھی حصے میں جاکر اپنا روزگار تلاش کر سکتا ہے،اس پر امیگریشن کے وہ قوانین نافذ نہیں کیے جا سکتے جو غیر ممالک جانے والوں کے معاملے میں نافذ ہوتے ہیں۔بات صرف یوگی سرکار کے مذکورہ غیر قانونی و غیر آئینی بیان تک محدود نہیں بلکہ یوگی کے اس بیان کے بعد مہاراشٹر نو نرمان سینا کے لیڈر راج ٹھاکرے نے اپنے رد عمل میںیوگی کی بات کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اتر پردیش کے لوگوں کو مہاراشٹر آنے کے لیے ہم سے اجازت لینی ہوگی۔‘‘ ظاہر ہے یہ بیان بھی کسی طرح قابل قبول نہیں ہے اور یوگی کی فکر کو ہی آگے بڑھاتا ہے۔راج ٹھاکرے نے اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی کہہ دیا کہ یو پی کے لوگوں کو صرف ان کی ریاست میں ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو۔کیا ہمارے لیڈروں کے اس طرح کے بیانات ’ایک بھارت ‘ کے تصور کے منافی نہیں ہیں؟سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا اتر پردیش یا کسی بھی ریاست کا اپنے مزدوروں پر اس طرح کا مالکانہ حق ہے؟کیا تلاش معاش میں اپنا گھر چھوڑ کر دوسری ریاستوں کا رخ کرنے والے اپنی اپنی ریاستوں کی حکومتوں کے بندھوا مزدور ہیں؟کیا یوگی حکومت بندھوا مزدوری کے دور کی واپسی کی طرف بڑھ رہی ہے؟حالانکہ ریاستی ہائی کورٹ اور قومی اقلیتی کمیشن یوگی سرکار کے کئی فیصلوں پر اس سے جواب طلب کر چکی ہے۔سہارنپور میں بھوک سے مرنے والے مزدورکے معاملے پر بھی یوگی سرکار کو قومی حقوق انسانی کمیشن نے نوٹس دیا ہے لیکن اس نوٹس کا حکومت کی طرف سے کوئی ذمہ دارانہ جواب دیا جائیگا اس کی توقع ہی فضول ہے۔بے شمار مزدوروں کی سڑکوں اور خصوصی ٹرینوں میں موت کے بعد اب سپریم کورٹ کو بھی ان مزدوروں کی بے چارگی پر رحم آیا ہے اور ریاستوں و مرکزی سرکار سے عدالت نے پوچھا ہے کہ وہ ان مزدوروں کے لیے کیا کر رہی ہیں۔جہاں تک یوگی حکومت کا تعلق ہے تو وہ شائد یہ مانتی ہے کہ مہاجر مزدوروں سے متعلق تمام مسائل کے لیے اپوزیشن والی ریاستیں ہی ذمہ دار ہیں۔اسی لیے دیگر ریاستوں کو اتر پردیش کے مہاجر مزدوروں سے کام لینے کے معاملے میںریاستی حکومت سے اجازت لینے کی بات کہنے کے ساتھ ہی یوگی حکومت نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ا ن ریاستوںنے مزدوروں کی ٹھیک سے دیکھ بھال نہیں کی۔یوگی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ایک ’امیگریشن کمیشن ‘ تشکیل دیگی جو باہر جاکر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے پالیسی طے کریگا۔مذکورہ کمیشن مزدوروں کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہوگا یہ تو وقت بتائیگا لیکن رشوت خور نوکر شاہی کے لیے اس بہانے مزدوروں کا استحصال کرنے کا ایک موقع ضرور نکل آئیگا۔گھر واپسی کر رہے مزدوروں کے تعلق سے بھی یوگی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مزدور اپنے گھروں تک کیسے پہنچیں اس کافیصلہ حکومت کریگی۔یعنی یوگی اور ان کی پارٹی کو ووٹ کے ذریعہ با اختیار بنانے والوں کو یہ اختیار بھی حاصل نہیں کہ وہ یہ طے کریں کہ انھیں کس طرح گھر واپس پہنچنا ہے۔ دیگر ریاستوں سے اترپردیش آنے والے ۲۵ لاکھ مزدوروںکے تعلق سے یوگی کا یہ بیان تو سنجیدہ طبقے میں بھی موضوع مذاق بن گیا ہے جس میںکہا گیا تھا کہ مہاراشٹر سے آنے والے ۷۵ فیصدی،دلّی سے آنے والے ۵۰ فیصدی اور دیگر ریاستوں سے آنے والے ۲۵ فیصدی مریض کورونا سے متاثر ہیں۔
یوگی کے اس دعوے کو سنجیدگی سے تسلیم کر لیا جائے تو ریاست میں کورونا متاثرین کی تعدا د ۱۰ لاکھ سے بھی تجاوز کر جائیگی ۔بہرحال ہر آدمی کو اپنی عقل ،شعور اور صلاحیت کے مطابق جمہوریت میں بولنے کا حق حاصل ہے اس لیے یوگی کے مذکورہ دعوے پر کوئی تبصرہ کرنا سوائے تضیع اوقات کے کچھ نہیں،لیکن اس بات پر ہر ذمہ دار ہندوستانی شہری کو سوال اٹھانے اور عدالت کو از خود نوٹس لینے کی ضرورت ہے کہ جس میں یوگی نے مزدوروں کو ریاستی حکومت کی ملکیت بنانے اور ان کے بنیادی حق پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here