کہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

0
53
ڈاکٹر جسیم الدین

ڈاکٹر جسیم الدین
(گیسٹ  فیکلٹی شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی،دہلی)
وطن عزیزکے باشندگان کے خواب وخیال میں بھی یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ ان کے جنت نشاں اراضی کو کشت وخوں میں بدلنے کے لیے ماحول کو مسموم کردیا جائے گا، یہاں کی تعلیم گاہوں میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات نے بھی کبھی یہ سوچانہیں ہوگاکہ ان کو اپنے ہی ملک میں اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا ہوگا اور جب وہ صدائے احتجاج بلند کریں گےتوانھیں پابند سلاسل کردیا جائے گا۔یہی نہیں یہاں کے یومیہ مزدور کے وہم وگمان میں یہ بات نہیں پھٹکی ہوگی کہ ایسا بھی دن آئے گا کہ وہ نان شبینہ کے محتاج ہوجائیں گے اور نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ بھوک کی شدت کی تاب نہ لاکر اسٹیشن پر ممتاکی پجاری ماں موت کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔مزدوروں نے یہ بھی نہیں سوچاہوگا کہ ان کی جہالت وناخواندگی کا خمیازہ اس طرح بھگتنا ہوگا کہ انھیں منزل مقصود تک پہنچانے کے نام پر ایسا بھونڈا مذاق بھی کیا جائے گا کہ سورت سے بہارجانے والی ٹرین کو بنگلور پہنچادیاجائے گا اور چاردن بعد پانچ دن میں وہ ٹرین  بہا رپہنچے گی، بس پر سوار ہونے والے جفاکش بندۂ مزدور کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ انھیں دہلی سے مرادآباد کے لیے چلنے والی بس انھیں مراد آباد نہ پہنچاکر علی گڑھ پہنچا دے گی اور وہ یہاں بے یارومددگار ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے، یہ کوئی افسانوی اور خیالی باتیں نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے ہندوستان کی موجودہ تصویر ہے، جو ہرکس وناکس پر عیاں ہے،  ہندوستان کا موجودہ منظر نامہ اگر کسی کی نگاہوں سے اوجھل ہے تو وہ برسر اقتدار حکمراں جماعت ہے، اقتدار کی مستی میں یہ اس طرح مدہوش ہے کہ انھیں خبر بھی نہیں ہے آنے والے انتخابات میں اقتدار سے بے دخلی کی شکل میں قیمت چکانی پڑے گی۔اگر آج حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اقتدار کے بل پر تعلیم گاہوں سے اٹھنے والی آواز کو بند کردے گی، تو یہ اس کی خام خیالی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم گاہوں سے اٹھنے والی صدائے احتجاج نے تحریک کی شکل اختیار کی ہے اور حکومت وقت کے تختۂ اقتدار کو پلٹ دیا ہے، اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ بندۂ مزدور کو ظلم وستم کی چکی میں پیس کر ان کے وجود کو نیست ونابود کردے گی تو یہ بھی اس کی نادانی ہے، ہندوستان کی نصف سے زائد آبادی پر مشتمل طبقہ مزدوروں کے ہاتھوں میں اقتدار کی کنجی ہوتی ہے، اگر حکومت آج انھیں بے بس وبے کس سمجھ کر جیسے تیسے ان کے حقوق کو پامال کررہی ہے تو اسے بھی اقتدار سے محرومی کی شکل میں اس کی بھی قیمت چکانی پڑے گی۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اس ملک کا ہر امن پسندشہری حکومت کے موجودہ طرز عمل سے نالاں ہے، حکومت کی پے درپے ناکامی کا سلسلہ شیطان کی آنت کی طرح طویل ہوتا جارہاہے، ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہوتی جارہی ہے،تعلیمی اداروں میں بے جا دخل اندازی نے تعلیمی نظام کو مفلوج کردیا ہے، تعلیمی اداروں کی خودمختاری کو نہ صرف سلب کرنے پرحکومت  آمادہ ہے،بلکہ ان اداروں میں گرانٹ کی تخفیف کرکے تعلیم کو متمول طبقہ میں محصور کرنے کا مذموم ارادہ بھی رکھتی ہے۔جیساکہ حال ہی میں مرکزی وزیر نتن گٹکری نے فکی آڈیٹوریم کے ایک ہائی پروفائل ویبینار میں اس کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ تعلیمی اداروں کوکم ازکم پچاس فیصد گرانٹ خود ارینج کرنا ہوگا،حکومت کے بس میں نہیں ہے کہ سو فیصد گرانٹ فراہم کرے۔اسے ہم وزیر اعظم کی زبان میں اس طرح بھی تعبیر کرسکتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو بھی خود کفیل (آتم نربھر) ہونا پڑے گا۔
یہ طرفہ تماشا ہی ہے کہ ایک طرف حکومت ’میک ان انڈیا‘کا راگ الاپ رہی ہے اور دوسری طرف ہرایک کو آتم نربھر (خود کفیل) ہونے کا درس دے رہی ہے۔تعلیمی اداروں کو نجکاری کے دلدل میں دھکیل کر متوسط اور قلیل آمدنی والے طبقہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروزے بند کرکے ان کی ترقی کے دروازوں پر قفل بندی کررہی ہے۔حکومت کی ذمہ داری تو یہ بنتی ہے کہ اعلیٰ طبقات کے ساتھ ساتھ اپنے بلند وبانگ نعرے ’سب کا ساتھ،سب کا وکاس‘ پر عمل پیرا ہوکر اعلیٰ تعلیم کے نہ صرف دروازے کھولے، بلکہ ضرورت مند طلبہ وطالبات کے لیے سابقہ حکومتوں کی طرف جاری کردہ تمام اسکالرشپ کو بدستور جاری رکھے، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ حکومت نے تقریباً پندرہ اہم اسکالرشپ کوٹھنڈے بستے میں ڈالدی ہے، ان میں ریٹائرڈ پروفیسر کی تعلیمی وتحقیقی تجربات سے استفادہ کو جاری رکھنے کے سلسلے میں دی جانے پروفیسر ایمریطس فیلو شپ کے علاوہ اڈوانس ریسرچ کے لیے متعدد اسکالرشپ،جیسے ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن پوسٹ ڈاکٹورل فیلو شپ، ڈاکٹر ڈی ایس کوٹھاری ہوسٹ ڈاکٹورل فیلوشپ، راجیو گاندھی  فیلو شپ فار ایس سی ایس ٹی، اندرا گاندھی وومن فیلو شپ، سوامی وویکانند ا سنگل گرل چائلڈ اسکالر شپ برائے سوشل سائنس، پوسٹ گریجویٹ اندرا گاندھی اسکالرشپ فار سنگل گرل چائلڈ، پوسٹ گریجویٹ میرٹ اسکالرشپ فار یونیورسٹی رینک ہولڈر،پوسٹ گریجویٹ اسکالرشپ  فار پروفیشنل کورس فار ایس سی ایس ٹی امیداوار،پوسٹ ڈاکٹورل فیلوشپ فار وومن، نیشنل فیلوشپ  فار ہائر ایجوکیشن، نیشنل فیلوشپ فار ڈس ایبلیٹیز،نیشنل فیلوشپ فار اوبی سی امیدوار کے علاوہ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یوجی سی) کی طرف سے دیے جانے والے متعددمیجر ومائنر پروجیکٹ پر روک لگادی ہے۔
یہاں یہ بتاتا چلوں کہ مذکورہ تمام اسکالرشپ کا سابقہ حکومت میں ہرسال باضابطہ نوٹیفیکیشن ہوتا تھا، لیکن موجودہ حکومت  کی  سرد مہری یا سرکشی کی وجہ سے پچھلے تین برسوں سے یہ تمام اسکالر شپ اور پروجیکٹ  التواکا شکار ہیں۔حالاں کہ وزیر اعظم نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنے انتخابی ریلیوں میں اسی کی دہائی دیتے رہے کہ اس وقت کی حکومت (کانگریس) کے پاس نہ نیت ہے اور نہ نیتی یعنی کانگریس کے پاس کوئی معقول ایجنڈا ہے اور نہ اس کی نیت صاف ہے، لیکن قارئین کو یاد ہوگا کہ  اس (کانگریس)کی حکومت  میں تمام تر کساد بازاری کے باوجود ہندوستان معیشت کی پٹری پر تیزی سے رواں دواں تھا اور تمام علمی وتحقیقی کاموں کے لیے مختص فنڈ کو بروقت ریلیزکیاجاتارہا، اب صورتحال یہ ہے کہ ہندوستان کون سا طبقہ ہے جو ملک کی موجودہ صورتحال سے مطمئن ہے، تعلیمی اداروں سے جڑے اساتذہ پریشان ہیں، یومیہ اجرت پر کام کرنے والابندۂ مزدور جاں کنی کے عالم  میں ہے، تو تاجر طبقہ بھی ماتم کناں ہے۔خدا جانے یہ حکومت کن مقاصد اور عزائم کے تحت حکمرانی کررہی ہے کہ روز خوشنما وعدوں سے عوام کو بہلایا جاتاہے اور کبھی پندرہ ہزار تو کبھی بیس لاکھ کروڑ روپے مزدوروں کے ڈیولپمنٹ کے لیے مختص کرنے کا شگوفہ چھوڑا جاتاہے اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات  غالب نے ٹھیک ہی کہاتھا:
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here