عرفان پٹھان نے کر کٹ ذمہ داران پر لگایا بڑا الزام

0
7

نئی دہلی:ہندستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے شکوہ کیا ہے کہ ملک میں کرکٹ ذمہ داران نے انہیں 30 سال کی عمر میں بوڑھا بنا دیا ۔
ہندستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، جن کا کیریئر شاندار کارکردگی کے باوجود جلد ختم ہو گیا۔عرفان کے مطابق انہیں 30 سال کی عمر میں بوڑھا بنا دیا گیا۔2003 میں ہندستان کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبو کرنے والے عرفان نے سریش رینا کے ساتھ انسٹاگرام لائیو پر یہ بات کہی۔دراصل عرفان نے رینا کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان تین ناٹ آؤٹ فاتح شراکت ہوئیں، اس بات پر رینا نے ان سے کہا کہ ان کے سری لنکا کے خلاف 2012 میں کھیلی گئی اننگز آج بھی یاد ہے۔جہاں انہوں نے اکیلے دم پر ہندستان کو جیت دلائی۔رینا کی بات سن کر عرفان نے کہا کہ وہ میچ ان کے کیریئر کا آخری ون ڈے ثابت ہوا۔سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ آج کے وقت میں اگر کوئی ایسا کھیلے تو وہ سال بھر کے لئے ٹیم سے باہر نہیں ہو گا۔
عرفان پٹھان نے کہا کہ ہمارے ملک اور آسٹریلیا، انگلینڈ کی سوچ میں فرق ہے۔مائیکل ہسی نے 29- 30 کی عمر میں ڈیبو کیا تھا اور جب وہ ریٹائر ہوئے، تب وہ عظیم کرکٹرز کی فہرست میں شمار تھے۔مگر ہندستان میں 30 کی عمر میں کوئی ڈیبو کرنے کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا۔یہاں بوڑھا بتانے لگتے ہیں۔عرفان نے کہا کہ انہیں 30 سال کی عمر میں بوڑھا بنا دیا گیا۔ایک بار بی سی سی آئی کے کسی شخص نے بڑودہ کے کسی کرکٹر کو ان کے لئے کہا کہ وہ تو ان کی ریڈار پر ہیں ہی نہیں۔عرفان نے کہا کہ ویسے تو 30 کی عمر میں بوڑھا نہیں ماننا چاہیے، مگر پھر بھی ایسی سوچ ہے تو جتنے بھی 30 کے آس پاس والے کھلاڑی ہیں جو بورڈ یا ایسوسی ایشن کے ریڈار پر نہیں ہیں، ان کی ليگز میں کھیلنے کا موقع دینا چاہئے۔
اس دوران رینا نے کہا کہ ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی ) کو آئی سی سی یا غیر ملکی لیگ کی فرنچائز سے بات کرتے ہوئے ہمیں دو مختلف غیر ملکی ليگز میں کھیلنے کی اجازت دینی چاہئے۔کم سے کم ہمیں دو غیر ملکی لیگ میں کھیلنے کی اجازت ہونی چاہئے۔اس سے وہاں اچھی کارکردگی کرتے ہیں تو نیشنل ٹیم میں واپسی کر سکتے ہیں۔
ہندستان کے بائیں ہاتھ کے بلے باز سریش رینا نے کہا ہے کہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو غیر مرکزی کنٹریکٹ ہندوستانی کھلاڑیوں کو غیر ملکی ٹی -20 لیگ میں کھیلنے کی اجازت دینی چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here