کورونا کے پیش نظر بال ٹیمپرنگ کو قانونی حیثیت دینے پر غور

0
10

دبئی: کورونا وائرس ‘كووڈ 19’ وبا کے پیش نظر لال گیند کی چمک کو برقرار رکھنے کے لئے منہ کی رال لگانے پر پابندی کے امکانات کے درمیان کرکٹ میں سب سے بڑا جرم مانے جانے والے بال ٹیمپرنگ کو جائز قراردینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔کرکٹ کو دوبارہ شروع کئے جانے سے پہلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میڈیکل کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ گیند کو چمکانے کے لئے تھوک یا منہ کی رال کے استعمال کو روکا جائے اور گیند کو ریورس سوئنگ کرانے کے لئے مختلف اقدامات یا ترکیب کو آزمایا جائے۔
اس بات کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے کہ گیند کو چمکانے کے لئے مصنوعی چیزوں کے استعمال کی منظوری دے دی جائے اور بال ٹیمپرنگ کو جائز قرار دیا جائے۔2018 کے شروع میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں آسٹریلیا کے کپتان اسٹیون اسمتھ، نائب کپتان ڈیوڈ وارنر اور اوپنر کیمرون بین كرافٹ کو كیپ ٹاؤن کے تیسرے ٹیسٹ میں گیند سے چھیڑ چھاڑ کا مجرم پایا گیا تھا اور ان پر پابندی لگا دی گئی۔کرکٹ آسٹریلیا نے اس معاملے میں اپنی انکوائری کے بعد اسمتھ اور وارنر پر ایک ایک سال اور بین كرافٹ پر نو ماہ کی پابندی لگائی تھی ۔ اسمتھ کو ساتھ ہی دو سال کے لئے کپتانی کرنے سے بھی محروم کر دیا گیا تھا جبکہ وارنر پر کپتانی کیلئے تا حیات پابندی لگادی گئی تھی ۔
بال ٹیمپرنگ کو قانونی حیثیت دینے کے معاملے کے متعلق آئی سی سی کرکٹ کمیٹی (آئی سی سی) اور میلبورن کرکٹ کمیٹی (ایم سی سی) ویڈیو كانفرنس کے ذریعے مئی کے آخر یا جون کے آغاز میں بات کر سکتے ہیں ۔گیند پر تھوک لگائے جانے کے بارے میں جب آسٹریلوی فاسٹ بولر پیٹ کمنز اور جوش هیزلوڈ سے حال میں اس بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر گیند پر تھوک لگانے پر پابندی لگائی جائے گی تو گیند بازوں کے لئے گیند کو چمکانے کے لئے کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا اور گیند کو سوئنگ کرانا بہت مشکل ہو جائے گا۔
اس مسئلے پر کرکٹ آئکن سچن تندولکر کا کہنا ہے کہ کورونا کا بحران نکل جانے کے بعد کرکٹ کی دنیا بڑی حد تک بدل جائے گی اور بولر منہ کی رال گیند پر استعمال کرنے سے بچیں گے۔کھلاڑی ذاتی حفظان صحت کی توجہ رکھیں گے اور میدان میں بھی سماجی فاصلے بنائیں گے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وکٹ لینے کے بعد ٹیم کے جشن منانے کا اسٹائل ہی بدل جائے۔آئی سی سی میڈیکل کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر پیٹر هاركورٹ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کے بعد کھیل کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے جانچ کرنے والی ایک فہرست بنائی جائے گی۔موجودہ حالت انتہائی خطرناک ہے اور کورونا وائرس کے تعلق سے ابھی اور بھی جانکاریاں حاصل کرنی ضروری ہیں تاکہ اسی کے مطابق فیصلے لئے جا سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی میڈیکل کمیٹی طبی نمائندوں کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ ان مسائل کا پتہ لگایا جا سکے جس کا کرکٹ کو سامنا ہے۔ ہمارا اگلا قدم بین الاقوامی کرکٹ کو دوبارہ شروع کرنے اور ان چیزوں کی فہرست بنانے کا ہے جن پر فیصلہ اور تحقیقات کی جا سکے۔اس میں حکومتوں کی طرف سے لگائی گئی پابندی اور دیگر اسباب کو بھی شامل کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here