ماہِ صیام میں کوئی خصوصی رعایت نہیں

عبادتوں پر پابندی اور خریداری کے اوقات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں: پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ

0
17
پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ

ممبئی : رمضان المبارک کے پیش نظر ممبئی شہر و مضافات میں مسلمانوں کے لیے مساجد میں نمازوں کی ادائیگی اور افطار و دیگر ضروری خریداری کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی خصوصی رعایت دینے سے انکار کرتے ہویے ممبئ کے پولس کمیشنر کمشنر پرم بیر سنگھ نے کہا کہ ممبئی شہر میں کوویڈ-19 مریضوں کی تعداد میں مسلسل اور بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے اس لئے فی الحال ایسی کوئی رعایت دینا دشوارہے۔اس سے قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں رات 3 بجے سے دوپہر 12 بجے تک سحر و افطار کی خریداری کی جاسکتی ہے لیکن اب اس فیصلہ کو ممبئی پولیس کمشنر نے واپس لے لیا ہے۔ممبئی کے پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے اعلی افسران کی ایک میٹنگ میں یہ فیصلہ لیتے ہوئے یہ بات واضح کر دی کہ ماہِ صیام میں کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جا رہی ہے اس لیے عوام موجودہ اوقات کے مطابق ہی خریداری کریں اور دیگر احتیاطی تدابیر پر اسی طرح عمل کرتے رہیں جس طرح اب کر رہے ہیں، بصورتِ دیگر مجبوراً انھیں کاروائی کرنا پڑے گا۔اس موقع پر انھوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ رمضان المبارک کے پیش نظر اس بات کا خاص خیال رکھا جائےگا کہ کسی کو بھی کسی چیز کی کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ مسلمانوں کو بھی اس بات کا خاص خیال رکھنا ہو گا کہ وہ احتیاط اور محفوظ رہ کر ماہ صیام گزاریں۔کوئی بھی قانون شکنی اور کوئی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہ کرے۔اسی کے ساتھ انھوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے اس مقدس اور بابرکت مہینہ میں بارگاہ الہی میں کرونا وائرس جیسی وبا کے خاتمہ کیلئے دعائیں کریں اور جو اس مرض سے بیمار ہے ان کی صحتیابی اور عالم و ملک کو اس سے نجات ملنے کی دعا کریں۔ممبئی شہر میں رمضان المبارک کی آمد کے سبب مسلمانوں میں جوش و خروش پایا دیکھنے کو ملا ۔ شہر اور مضافات کے مسلم اکثریتی علاقوں بھنڈی بازار,ناگپاڑہ, ڈونگری, پائیدھونی وغیرہ میں کھجور سحر و افطار کے ساز وسامان کیلئے مسلمانوں نے قطاریں لگا خریداری کی۔ اس موقع پر بتائے گئے محفوظ فاصلہ کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ رمضان المبارک کی آمد و استقبال کیلئے مسلمانوں میں جوش و خروش پایا گیا ہر کوئی رمضان المبارک کے استقبال میں مشغول نظر آرہا تھا۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ماہ مقدس کی برکت و انوار کے سبب کرونا وائرس کا خوف مسلمانوں میں معدوم ہو گیا۔ اسی کے ساتھ ہے مذہبی رہنما اور علماء کرام وغیر کی جانب سے دیئے گئے مشوروں کے پیش نظر بیشتر مسلمانوں نے اس ماہ صیام میں عبادت و ریاضت کا نظم اپنے گھروں میں ہی کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے اور اس کیلئے گھروں میں ہی عباد ت و ریاضت کے خصوصی اہتمام کی تیاریاں بھی مکمل کر لی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here