’’کورونا کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کو اضافی دیکھ بھال کی ضرورت‘‘

0
9

نئی دہلی: کینسر کے مریضوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور ایسے لوگوں میں کورونا وائرس جیسے انفیکشن کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔راجیو گاندھی کینسر انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر (آر جی سی آئی آر سی) کے میڈیکل ڈائرکٹر ڈاکٹر سدھیر راول نے کہاکہ اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ کینسر کے مریضوں کو فزیکل ڈسٹینسنگ کے پیمانوں پر سختی سے عمل کرنا چاہئے جہاں تک ممکن ہو باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ متوازن غذا لینی چاہئے اور مثبت سوچ رکھنی چاہئے۔کینسر مریضوں کو اگر کووڈ۔ 19ہوجائے تو ان کی حالت زیادہ سنگین ہوسکتی ہے کیونکہ کینسر کے علاج کے دوران عام طورپر ان کا امیون سسٹم کمزور ہوجاتا ہے۔ اس لئے کینسر کے مریضوں اور کینسر سے ٹھیک ہوچکے لوگوں (کینسر سروائیور) کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ خود کو اس انفیکشن سے بچاکر رکھیں۔
ڈاکٹر سدھیر اگروال نے کہاکہ لاک ڈاون کے دوران مریض کو اپنا علاج کررہے آرکولوجسٹ سے بات کرنی چاہئے تاکہ اگر علاج سے سمجھوتہ کئے بغیر اسپتال جانے سے بچا سکتا ہے تو اسے ٹال دیا جائے۔ مثال کے طورپر اس وقت کینسر سے ٹھیک ہوچکے لوگوں کی روٹین کی جانچ کو آسانی سے کچھ دن کے لئے ٹالا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر کینسر کے مریض میں کووڈ۔19کی علامات نظر آئیں تب بھی بغیر بات کئے اسپتال پہنچنے کے بجائے انہیں اپنا علاج کرنے والے آرکولوجسٹ سے فون پر بات کرنی چاہئے۔ کینسر کا علاج نہیں ٹالا جاسکتا ہے لیکن احتیاط ضرور برتی جانی چاہئے۔
مثال کے طورپر کیمو تھیراپی اور سرجری کو تب تک کے لئے ٹالا جاسکتا ہے جب تک شخص انفیکشن سے پاک نہ ہو۔اسپتال آنے کی وجہ سے انفیکشن ہونے کے خطرے کے مد نظر علاج ٹالنے کے سوال پر ڈاکٹر راول نے بتایا کہ آر جی سی آئی آر سی جیسے سوپر اسپیشلٹی اسپتالوں میں انفیکشن کا پھیلاو روکنے کے لئے تمام ضروری احتیاط برتی جارہی ہیں۔آر جی سی آئی آر سی میں آنے والے ہر شخص کی کافی اسکریننگ ہوتی ہے اور فزیکل ڈسٹینسنگ پر مکمل عمل کیا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی آر سی جی سی آئی آر سی نے نوڈل افسر کے تحت ٹیلی کنسلٹینسی نظام کو بھی مضبوط کیا ہے۔ ایک ایپ بھی بنایا جارہا ہے جس کی مدد سے کینسر کے مریض گھر بیٹھے بیٹھے ہی کنسلٹ کرسکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here